الگ الگ مذاہب کے جوڑوں کا لیو اِن ریلیشن جرم نہیں: آلہ باد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

پریاگ راج: Allahabad High Court نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بالغ جوڑے اگر شادی کے بغیر لیو اِن ریلیشن میں رہتے ہیں تو یہ کسی بھی قانون کے تحت جرم نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ دو بالغ افراد کو اپنی مرضی سے ساتھ رہنے اور زندگی کا ساتھی منتخب کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

عدالت کے روبرو دائر متعدد عرضیوں میں بین المذاہب جوڑوں نے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ صرف مذہب کے فرق کی بنیاد پر کسی بالغ جوڑے کے ساتھ رہنے کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ اتر پردیش میں نافذ Uttar Pradesh Prohibition of Unlawful Conversion of Religion Act, 2021 (غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب ایکٹ 2021) اس صورت میں لاگو ہوتا ہے جب زبردستی، دھوکہ دہی یا غیر قانونی طریقے سے مذہب تبدیل کرایا جائے۔ محض لیو اِن ریلیشن میں رہنا اس قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین ہند کے آرٹیکل 14، 15 اور 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو مساوات، امتیاز سے آزادی اور شخصی آزادی کا حق حاصل ہے، اور کسی بالغ کو اپنی پسند کی زندگی گزارنے سے روکا نہیں جا سکتا۔

ساتھ ہی عدالت نے ہدایت دی کہ اگر ایسے جوڑوں کو کسی قسم کا خطرہ یا ہراسانی کا سامنا ہو تو پولیس انہیں مناسب تحفظ فراہم کرے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بین المذاہب جوڑوں کے آئینی حقوق کو مضبوط بناتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ذاتی زندگی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading