اتر پردیش میں جرائم کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ ہی عام لوگ محفوظ ہیں اور نہ ہی پولس خود کو محفوظ تصور کر سکتی ہے۔ برسرعام قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن اتر پردیش انتظامیہ نہ صرف ان باتوں سے انکار کر رہی ہے بلکہ سابق میں درج معاملوں کو جھوٹا بھی قرار دے رہی ہے۔ تازہ معاملہ کانگریس رکن اسمبلی ادیتی سنگھ پر حملے کا ہے جس میں پولس کا کہنا ہے کہ ان پر کوئی حملہ ہوا ہی نہیں تھا اور رکن اسمبلی ایک حادثہ میں زخمی ہوئی تھیں۔
اتر پردیش کی رائے بریلی پولس کا کہنا ہے کہ کانگریس رکن اسمبلی ادیتی سنگھ پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ پولس کے مطابق ادیتی سنگھ ایک حادثہ کا شکار ہوئی تھیں۔ حالانکہ یہ بات ہر کسی کو معلوم ہے کہ کانگریس رکن اسمبلی کے قافلے پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ ضلع پنچایت میں پیش عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ لینے جا رہی تھیں۔ درج ایف آئی آر کے مطابق ضلع پنچایت صدر اودھیش سنگھ کے لوگوں نے ادیتی سنگھ کی کار کا پیچھا کیا اور ان پر فائرنگ کی۔ فائرنگ سے بچنے کی کوشش میں کار پلٹ گئی تھی جس میں ادیتی سنگھ زخمی ہو گئی تھیں۔ ادیتی سنگھ نے ایف آئی آر میں بی جے پی ایم ایل سی دنیش پرتاپ سنگھ، ان کے بھائی ضلع پنچایت صدر اودھیش سنگھ سمیت کچھ نامعلوم لوگوں کے خلاف 14 مئی کو اپنی گاڑی اور خود پر قاتلانہ حملہ کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کروایا تھا۔
غور طلب ہے کہ اس سے پہلے ایک اور واقعہ کو لے کر بھی اتر پردیش پولس نے جرم ہونے سے انکار کیا تھا۔ واقعہ میں ایک اقلیتی طبقہ کے شخص سے جبراً ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوانے کا الزام تھا۔ لیکن پولس نے شروعاتی جانچ کے بعد ہی اس واقعہ کو غلط قرار دے دیا تھا۔
ادیتی سنگھ کے معاملے کو جھوٹا قرار دیے جانے پر کانگریس لیڈر امرناتھ اگروال کا کہنا ہے کہ پولس پر دباؤ بنا کر ایسی رپورٹ تیار کرائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس واقعہ کے اگلے ہی دن دنیش سنگھ کا ایک حامی مردہ پایا گیا تھا، آخر اس معاملے کی جانچ کیوں نہیں ہوئی۔‘‘
ادیتی سنگھ پر حملہ کے معاملے کی جانچ کرنے والے افسر مہندر پرتاپ سنگھ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ادیتی سنگھ کی کار ایک دیگر کار سے ٹکرا کر پلٹ گئی تھی، جس میں وہ زخمی ہوئی تھیں۔ حالانکہ رپورٹ میں لکھایا گیا تھا کہ جب ادیتی سنگھ کے قافلے پر فائرنگ ہوئی تو کار کے ڈرائیور نے تیزی سے کار کو دوڑایا جو کہ بعد میں بے قابو ہو کر پلٹ گئی۔ ادیتی سنگھ کا مقامی اسپتال میں علاج کرایا گیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
