افسانچہ سیلفی از ڈاکٹر لطیف نو از

افسانچہ
سیلفی از ڈاکٹر لطیف نواز
بسوا کلیان
9900489375موبائل نمبر
دانش نے میر سے کہا
"آپ نے وہ کہاوت تو سنی ہی ہو گی نیکی کر دریا میں ڈال"
میر نے کہا
"جی ہاں یہ کہاوت ہمارے سماج کے ان لوگوں کے بارے میں کہی جاتی ہے جو نیک اور فلاحی کام کرتے ہیں اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی لیکن آج ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کا فقدان ہے جو نیکی کر کے بھول جاتے ہیں"۔

دانش نے کہا
"آج بھی نیک اور فلاحی کام جاری ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ ہو رہے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ لوگ اب نیک اور فلاحی کام کر کے موبائل میں سیلفی لے کر اپنے نیک اور فلاحی کاموں کی نمائش کرتے پھرتے ہیں".
میر نے فوراً جواب دیا "یعنی نیکی کر سیلفی ڈال".

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading