ہفتے کے روز ایرانی صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انتہائی قدامت پسند امیدوار سعید جلیلی کے مقابلے میں اصلاح پسند امیدوار مسعود پزشکیان کی کامیابی کے بعد ایران میں برسوں کے قدامت پسندوں اور سخت گیرحلقوں کے بعد اصلاح پسندوں کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔
جیت کے اعلان کے بعد اپنے پہلے بیان میں پزشکیان جو مغرب کے لیے کھلے پن کے لیے مشہور ہیں نےکہا کہ وہ "سب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے”۔انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کو ایک بیان میں کہا کہ”ہم سب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ ہم سب اس ملک کے لوگ ہیں۔ ہمیں ملک کی ترقی کے لیے سب کی مدد لینی چاہیے”۔
اصلاح پسند صدر کے اختیارات کیا ہیں؟
ایران میں صدر اعلیٰ ترین منتخب عہدیدار ہیں۔ سپریم لیڈر کے بعد انہیں دوسرے نمبر پراختیارات کا حامل عہدیدار سمجھا جاتا ہے مگر ایران میں حقیقی طاقت اور اختیارات سپریم لیڈر کے پاس ہیں۔
پزشکیان ریاستی پالیسی کے نفاذ کے لیے ذمہ دار ہوں گے جس کے خدوخال سپریم لیڈر علی خامنہ ای طے کرتے ہیں۔
صدر حکومت کے روزمرہ کے امور کو سنبھالنے کا ذمہ دار ہے اور ملکی پالیسی اور خارجہ امور پر اس کا خاصا اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
’بی بی سی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران صدر کے پاس سکیورٹی سے متعلق اختیارات محدود ہوتے ہیں‘۔صدر کی وزارت داخلہ نیشنل پولیس سروس کا انتظام کرتی ہے لیکن پولیس چیف کا تقرر سپریم لیڈر کرتا ہے اور اسے براہ راست رپورٹ کرتا ہے۔
صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعہ جانچ پڑتال کے تابع ہوسکتے ہیں جو نئے قوانین وضع کرتی ہے۔دوسری طرف گارڈین کونسل جس میں سپریم لیڈر کے قریبی اتحادی شامل ہیں نئے قوانین کی منظوری کے لیے ذمہ دار ہے اور انہیں مسترد کر سکتی ہے۔
خامنہ ای کا پیغام
ایران کے نومنتخب اصلاح پسند کی صدارتی الیکشن میں کامیابی کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق صدر ابراہیم رئیسی کے نقش قدم پر چلیں۔سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے آج ہفتہ کو پزشکیان کو ایک پیغام بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ منتخب صدر کو "ابراہیم رئیسی کے راستے” پر چلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ منتخب صدر کو ابراہیم رئیسی کے راستے پر چلنا چاہیے۔