اسرائیل غزہ کی ہزاروں عمارتوں کو کنٹرولڈ طریقے سے زمین بوس کر رہا ہے

مارچ میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں عمارتوں کو مسمار کیا ہے۔ زمین بوس کی گئی ان عمارتوں میں غزہ میں جنگ کے آغاز سے قبل ہزاروں فلسطینی رہائش پذیر تھے۔تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ جن علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی نظر آ رہی ہے یہ وہ علاقے ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل کے ’آپریشنل کنٹرول‘ میں ہیں۔

زمین بوس کی گئی عمارتوں میں وہ عمارتیں بھی شامل ہیں جو پہلے ہی اسرائیلی بمباری کے باعث تباہ شدہ تھیں۔ ان عمارتوں کو ’کنٹرولڈ ڈیمولیشن‘ کے ذریعے زمین بوس کیا گیا ہے۔تصدیق شدہ فوٹیج میں بڑے دھماکوں کو دکھایا گیا ہے جبکہ اسرائیلی فورسز ٹاور بلاکس، سکولوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی کنٹرولڈ طریقے سے مسماری کر رہی ہیں۔متعدد قانونی ماہرین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اسرائیل نے ممکنہ طور پر جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ عالمی قوانین کے تحت قابض ملک پر طاقت کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر پابندی عائد ہے۔اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس نے بین الاقوامی قانون کے مطابق کام کیا ہے کیونکہ حماس نے شہری علاقوں میں ’عسکری اثاثے‘ چھپائے ہوئے ہیں اور یہ کہ ‘املاک کی تباہی صرف اس وقت کی جاتی ہے جب ایک لازمی فوجی ضرورت ہو۔‘

جولائی میں اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے رفح کے کھنڈرات پر ایک ’انسانی ہمدردی کا شہر‘ قائم کرنے کے منصوبے کا خاکہ پیش کیا جس میں ابتدائی طور پر 600,000 فلسطینیوں کو رکھا جائے گا۔اس منصوبے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تجویز کو ’حراستی کیمپ کے مترادف سمجھا جائے گا۔‘

تل السلطان رفح شہر کے سب سے زندہ جاوید محلوں میں سے ایک تھا۔ اس کی گنجان گلیوں میں رفح کا واحد خصوصی زچگی ہسپتال اور یتیم اور لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا مرکز تھا.پہلے ہی گولے باری اور دھماکوں میں یہ علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔ یہ ہسپتال ان مٹھی بھر عمارتوں میں سے ایک ہے جو کھڑی رہ گئی ہیں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading