اسرائیلی وزیراعظم کو اپنے ملک میں غم و غصے کا سامنا

سات اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے نے اسرائیلیوں کو تو اکٹھا کر دیا ہے لیکن حکومت کے لیے بہت کم محبت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جس پر ملک کے دفاع کو کمزور کرنے اور اسے غزہ کے تنازع میں گھسیٹنے کا الزام لگایا جا رہا ہے، جس نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کچھ بھی ہو، طویل سیاسی کیریئر کے بعد وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے لیے فیصلے کا دن آنے والا ہے اور تقریباً 1300 اسرائیلیوں کی اموات نے عوامی غم و غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

اسی صورت حال میں اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر کو ہسپتال میں داخلے سے روک دیا گیا۔ دوسرے وزیر کے محافظ پر ایک غمزدہ شخص نے کافی پھینک دی۔ تیسری وزیر کو اس وقت ’غدار‘ اور ’بزدل‘ جیسے نعروں کا سامنا کرنا پڑنا جب وہ اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو تسلی دینے آئی تھیں۔

ایک اور پہلو سماجی پولرائزیشن ہے اور نیتن یاہو کے مذہبی-قوم پرست حکمران اتحاد کی عدالتی اصلاحات کی مہم نے بھی شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

ایک سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اسرائیلی اخبار ’ یدیعوت احرونو‘ نے ’اکتوبر 2023 کی شرمناک ناکامی‘ کی ہیڈلائن شائع کی، جس کا مطلب اکتوبر 1973 میں مصر اور شام کے مشترکہ حملے میں اسرائیل کی ناکامی کو یاد کرنا تھا، جس کے نتیجے میں اس وقت کی وزیراعظم گولڈا میر کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔اس بے دخلی میں گولڈا میر کی مرکزی بائیں بازو کی لیبر پارٹی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

مقبوضہ بیت المقدس کے شالوم ہارٹ مین انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو اموتز آسا ايل نے وزیراعظم نتن یاہو اور ان کی طویل عرصے سے غالب، قدامت پسند لیکود پارٹی کے لیے بھی اسی طرح کی قسمت کی پیش گوئی کی۔

ان کا کہنا تھا: ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی انکوائری کمیشن ہے یا نہیں، یا وہ غلطی تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ یہ سب اہم ہے کہ ’عام اسرائیلی‘ کیا سوچتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک ناکامی ہے اور اس کے ذمہ دار وزیراعظم ہیں۔‘

اموتز آسا ايل نے مزید کہا: ’وہ (حکومت سے) جائیں گے اور ان کے ساتھ ان کی پوری اسٹیبلشمنٹ بھی۔‘

ماریوو (Maariv) اخبار میں شائع ہونے والے رائے عامہ کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ 21 فیصد اسرائیلی چاہتے ہیں کہ اس تنازع کے خاتمے کے بعد نتن یاہو وزیراعظم رہیں جبکہ 66 فیصد نے کہا کہ اس منصب پر ’کسی اور‘ کو ہونا چاہیے اور 13 فیصد کوئی فیصلہ نہیں کرسکے ہیں۔

سروے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو لیکود پارٹی اپنی ایک تہائی نشستوں سے محروم ہو جائے گی جبکہ ان کے مرکزی حریف بینی گنتس کی سینٹرسٹ نیشنل یونٹی پارٹی ایک تہائی سے آگے بڑھے گی اور وزارت عظمیٰ کے لیے سیٹ اپ کرے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading