اسرائیلی فوج کو ’جنگ کے لیے تیار‘ رہنے کا حکم، غزہ پر بمباری سے کم از کم 83 ہلاک

اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر فوج بھیجنا شروع کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ زمینی آپریشن شروع کر سکتا ہے۔اسرائیلی افواج کے سربراہان ممکنہ آپریشن کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس کے فوجی ’جنگ کے لیے تیار رہیں۔‘

 

اگرچہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اس امید کا اظہار کیا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی میں جلد کمی آئے گی تاہم بدھ کی رات کو شدید بمباری کے بعد جمعرات کو غزہ کی سرحد پر اسرائیلی افواج اکٹھی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔دوسری جانب حماس کے مطابق غزہ میں جاری بمباری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 83 ہوگئی ہے جس میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔ پیر سے جاری پرتشدد واقعات میں اب تک 487 افراد زخمی اور ہزاروں بےگھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے جمعرات کی صبح، جب فلسطینی عید کی نماز کی تیاریاں کر رہے تھے، غزہ پر فضائی بمباری شروع کر دی تھی جس میں شہر کے بیچ واقع ایک چھ منزلہ عمارت بھی تباہ ہو گئی ہے۔گذشتہ شب حماس نے یروشلم اور تل ابیب کی جانب راکٹ داغے تھے جن میں سے زیادہ تر اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی سسٹم نے ناکارہ بنا دیے۔غزہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عید سے پچھلی شب یہاں کے رہائشیوں کے لیے 2014 کے بعد ’سب سے مشکل اور طویل رات تھی۔‘

 

اسرائیل نے اپنے اہداف میں اب خفیہ اداروں کے دفاتر، بینک اور عسکریت پسند تنظیم حماس کی بحری تنصیبات کو بھی شامل کر لیا ہے۔دوسری جانب غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ وہ گذشتہ شب ہونے والی کئی ایسی اموات کی تفتیش کر رہے ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ وہ زہریلی گیس میں سانس لینے کے باعث ہلاک ہوئے۔ ان لاشوں سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور تفتیش جاری ہے۔بدھ کو اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے میں حماس کے ایک سینیئر کمانڈر کی ہلاکت اور غزہ میں کئی منزلہ عمارت کی تباہی کے بعد حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر درجنوں راکٹ حملے کیے۔اطلاعات کے مطابق جنوبی اسرائیل کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک کم عمر بچہ بھی شدید زخمی ہوا ہے۔اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی ہے کہ غزہ میں جاری جھڑپوں کی شدت میں جلد کمی آئے گی۔عالمی طاقتیں اس وقت خطے میں جنگ بندی پر زور دے رہی ہیں اور واشنگٹن نے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کروانے کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ بھی بھیجیں گے۔

صدر بائیڈن نے بدھ کو اسرائیلی صدر بنیامن نتن یاہو سے گفتگو کے بعد کہا ‘مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ جلد از جلد ختم ہو جائے گا تاہم اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔’اگرچہ صدر بائیڈن نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ بات کس بنا پر کہہ رہے ہیں لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ نتن یاہو نے ان سے کہا تھا کہ اسرائیل ‘حماس اور غزہ میں متحرک تمام دہشت گرد تنظیموں پر حملے جاری رکھے گا۔’

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے اس سے قبل غزہ میں مکمل جنگ کا خطرہ ظاہر کیا تھا اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا تھا کہ انھیں غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ گذشتہ 2 دنوں میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے 1000 سے زیادہ راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔جواب میں اسرائیل نے غزہ میں سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں اور منگل اور بدھ کے روز کئی منزلہ عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading