اسرائیلی جوابی کارروائی سے آگ بھڑک سکتی ہے، ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو کیا ہوگا؟

اسرائیل پر 180 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ایرانی حملے اور اسرائیل کے کسی بھی نئے اقدام کو سخت ردعمل کا سامنا کرنے کے ایرانی انتباہ کے بعد خطے میں غیرمعمولی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک ہمہ گیر جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جو ایٹمی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ . اسرائیل نے بار بار اپنے حکام کے ذریعے جواب دینے کے اپنے ارادے کی تصدیق کی اور کہا کہ ایرانی حملے کا جواب تکلیف دہ ہوگا۔لیکن کچھ تجزیہ کاروں نے رپورٹ کیا کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات یا تیل کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی اسرائیلی حملے سے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس طرح کے فضائی حملے سے تہران کو میزائلوں سے ایک بڑا حملہ کرنے، بیرون ملک اسرائیلی مفادات کے خلاف حملے کرنے اور اپنے جوہری پروگرام کو تیز کرنے پر اکسایا جا سکتا ہے۔ کسی بھی اسرائیلی رد عمل سے تہران کے جوہری بم بنانے کے راستے میں تیزی آ سکتی ہے۔

نارمن رولے جنہوں نے 2008 سے 2017 تک ایران کے حوالے سے اعلیٰ امریکی انٹیلی جنس افسر کے طور پر کام کیا نے نشاندہی کی کہ اسرائیل اس خیال کو تقویت دینے کی کوشش کرے گا کہ اس کی تکنیکی برتری اور فوجی مہارت اسے ایران میں کسی بھی ہدف پر حملہ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔انہوں نے کہا اسرائیل ممکنہ طور پر ایسے اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز کرے گا جو ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سے وہ ایٹمی پروگرام کا حوالہ دے رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ایک وسیع جنگ کے لیے اسرائیل کو امریکہ کی سیاسی، اقتصادی اور فوجی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تل ابیب کو اس بات کا احساس ہے کہ واشنگٹن کو اس طرح کے تنازع میں ملوث ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

تاہم اس کے باوجود تل ابیب ایران میں ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے جیسا کہ متعدد اسرائیلی حکام کی طرف سے خیال ظاہر کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے اندر تیل کی تنصیبات اور سٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ایٹمی حملہ سمیت تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ اسرائیلی جوابی کارروائی زیادہ اہم ہوگی۔جوہری تنصیبات میں عام طور پر یورینیم کا استعمال ہوتا ہے۔

ان گولوں کے پھٹنے کی وجہ سے ختم شدہ یورینیم بھڑک اٹھتا ہے اور باریک ذرات کے سپرے پر مشتمل حصوں میں بکھر جاتا ہے جو زہریلی تابکاری خارج کرتے ہیں۔ یہ تابکاری ہزاروں سال تک جاری رہ سکتی ہے۔بنیادی خطرہ انسانوں کو اس کے رساو سے پیش آیا ہے۔ ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی خرابیوں میں کینسر، گردے، جگر اور دل پر اس کے مضر اثرات شامل ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی اتحاد ٹو یورینیم ویپنز کے مطابق اگر ذرات پانی کی طرف چلے جاتے ہیں تو یہ مٹی میں جانے کے بعد انسانوں، جانوروں اور پودوں کو نقصان پہنچائیں گے۔

ایٹم بم کو نشانہ بنانے پر اسرائیل کو درپیش ممکنہ مشکلات
اگر تل ابیب ایرانی جوہری بم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ العربیہ چینل پر ایرانی امور کے ماہر مسعود الفک نے انکشاف کیا کہ اس طرح کے حملے کو انجام دینے کے لیے لامحالہ امریکی منظوری کی ضرورت ہوگی جس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔جہاں تک دوسرے مسئلے کا تعلق ہے انہوں نے نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ایران نے ایران عراق جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے "تموز” جوہری تنصیب کو نشانہ بنانے سے سیکھا ہے۔ ایران نے جوہری تنصیبات کو ایران کے مختلف خطوں میں پھیلی چھوٹی تنصیبات میں تقسیم کر دیا ہے جن میں سے زیادہ تر زیر زمین ہیں۔ اس لیے انہیں ختم کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ ایک جگہ نہیں ہیں۔تیسرا اگر اسرائیل "ایرانی ہتھیاروں کو کاٹ” کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور عراق، لبنان اور شام میں پھیلے ہوئے گروہوں کو ختم کردیتا ہے تو ایران لامحالہ ایٹمی بم بنانے کی طرف بڑھے گا۔ ایران نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ دو ہفتوں میں ایٹم بم حاصل کر سکتا ہے۔ اس کی تصدیق دیگر مغربی رپورٹوں نے بھی کی ہے۔ اس صورت حال نے مغربی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔

ایران اسرائیل پر مزید جدید میزائلوں سے حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے گا کیونکہ یہ واحد ہتھیار ہے جو تہران کے پاس ہے۔ ایرانی فضائیہ اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے آگے نہیں بڑھی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading