روزنامہ’ ورق تازہ‘اور آئن لائن میگزین تعلیم وتربیت کے خصوصی شمارے کااجرائ
ناندیڑ:یکم ، جولائی(ورق تازہ نیوز)فروغ اردو سوسائٹی اور اردو شکشک سنگھٹنا کے زیر اہتمام شاندار اردو تعلیمی کانفرنس اور موظف صدر مدرس ڈاکٹر محمد عبدالرافع کے اعزاز میں تہنیتی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ 30 جون کو دوپہرساڑھے گیارہ بجے اردو گھرمیں منعقدہ اس تہنیتی تقریب میں روزنامہ ورق تازہ ناندیڑ اور تعلیم و تربیت میگزین کے خصوصی شمار گوشہ ڈاکٹر رافع کا مہمانوں کے ہاتھوں اجراء عمل میں آیا ۔ تعلیمی کانفرنس کی صدارت ڈاکٹر شیخ عظیم الدین( لکھنو) اورتہنیتی تقریب کی صدارت غفار خان نے کی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی مدیراعلیٰ ورق تازہ جناب محمد تقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر رافع سے ان کے مراسم گزشتہ 25 سال سے زائد عرصے سے ہے۔ وہ انکے اور ادارہ ورق تازہ کی جانب سے وقتا فوقتا ًمنعقدہ سمیناروں اور کانفرنسوں ورق تازہ کے خصوصی شماروں کے اجرا کی تقاریب اورمشاعروں میں اپنا بھرپور تعاون دیتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر رافع فعال ? متحرک ہردل عزیز شخصیت ہے۔ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے ساتھ تھی تعلیم اور اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔ اس موقع پر دیگر مہمانان خصوصی توصیف پرویز (پونے) یوسف خان صابر(مدیر اعلی عکس ادب) محمد الیاس( اورنگ آباد)? محمد عارف مہموتلے( ممبئی)? عبدالملک نظامی و دیگر نے ڈاکٹر رافع کی ادبی تعلیمی اردو لسانی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اردو تعلیمی کانفرنس میں مہمان خصوصی توصیف پرویز (ایس سی ای آر ٹی پونہ)سابق صدر مدرس محمد عارف مہموتلے(ممبئی) عبدالملک نظامی (رکن اردو ادب اردو لسانی کمیٹی بال بھارتی پونے) نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کی صدارت لکھنو یونیورسٹی کے سابق ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، پروفیسر ڈاکٹر شیخ عظیم الدین نے کی
اس موقع پر مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد کے پروفیسر محمد عبدالسمیع، سابق ڈائریکٹر ایس سی ای آر ٹی گووند ناندیڑے، ایس سی ای آر ٹی پونے کے اردو رابطہ کار توصیف پرویز، مدینتہ العلوم ہائی ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر شفیع احمد قریشی، مہاراشٹر اردو شکشک سنگھٹنا کے ریاستی صدر ایم اے غفار، راجستھان یونیورسٹی کے ریسرچ گائیڈ یوسف خان صابر، سابق صدر مدرس اورنگ آباد محمد الیاس، ممبئی کے صدر مدرس محمد عارف مہمتولے، اور اردو لسانی کمیٹی بال بھارتی پونے کے رکن عبدالملک نظامی کو مدعو کیا گیا تھا۔اجلاس کے پہلے سیشن میں ماہرینِ تعلیم نے درس و تدریس کے موثر طریقہ کار، تدریسی چیلنجز اور عصری تقاضوں پر جامع گفتگو کی۔ مقررین نے کہا کہ موبائل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) نے تعلیمی نظام کو یکسر بدل دیا ہے، ایسے میں اساتذہ کو جدید وسائل سے لیس ہوکر تدریس کرنی ہوگی تاکہ طلبہ بہتر طور پر مستفید ہو سکیں۔انہوں نے زور دیا کہ اب محض کتابی علم کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل لٹریسی، تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور تخلیقی اندازِ فکر طلبہ میں پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ مقررین نے کہا کہ آن لائن کلاسز، ہائبرڈ لرننگ، ای-لائبریری، اور انٹرایکٹو لرننگ ایپلیکیشنز کو تدریس میں شامل کرنے سے نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔مزید یہ کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تربیت (Teacher Training) کے مستقل اور باقاعدہ سیشنز کا انعقاد بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ بدلتے تعلیمی منظرنامے سے ہم آہنگ رہ سکیں۔ مقررین نے نئی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کا بھی ذکر کیا اور اس میں اردو زبان کی اہمیت اور ممکنات پر روشنی ڈالی
۔نیز، مقررین نے مقابلہ جاتی امتحانات میں مسلم طلبہ کی کم نمائندگی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اسکول سطح سے ہی طلبہ کی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ، اور امتحانات کی تیاری کے لیے مخصوص کوچنگ پروگرامز شروع کیے جانے چاہئے۔ والدین میں بھی تعلیمی بیداری پیدا کرنا اس سلسلے کا ایک اہم پہلو ہے تاکہ وہ اپنے بچوں، خصوصاً بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کریں۔دوسرا سیشن تہنیتی جلسہ کی صدارت جناب محمد عبدالغفار صاحب (بانی و صدرمہاراشٹر راجیہ اردواردوشکشک سنگھٹنا)وجناب محمد تقی صاحب (مدیر اعلی ورق تازہ ناندیڑ )مہمانان خصوصی کے طور پر جناب کمال الدین ساجد صدیقی، قاضی اطہر صدیقی ،محترمہ ڈاکٹر مسرت فردوس صاحبہ(سابق صدر شعبہ اردو بامو یونیورسٹی اورنگ آباد )و دیگر مہمانان کی موجودگی میں ورق تازہ کا خصوصی گوشہ ڈاکٹر محمد عبدالرافع،و رسالہ تعلیم و تربیت کا شمارہ کا افتتاح عمل میں آیا نیز شہر کے مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ ا±ن اساتذہ اور صدر مدرسین کی تہنیت کی گئی جنہوں نے تدریسی خدمات انجام دے کر اپنی معیاد مکمل کی اور سبکدوش ہوئے۔جس تعلیمی کانفرنس و جلسہ تہنیت میں ناندیڑ کے مصروف تحقیق کار و ادب نواز شخصیت ماہر تعلیم استادجناب ڈاکٹر محمد عبدالرافع صاحب(سابق صدر مدرس مدینتہ العلوم پرائمری اسکول لال باڑہ ناندیڑ )گراں قدر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں شال، مومنٹو اور اسناد پیش کی گئیں۔
ان اساتذہ نے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور آئندہ بھی تعلیمی میدان میں اپنی معلومات اور تجربات کے ذریعے نوجوان نسل کی رہنمائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر شہر کے مختلف اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ، تعلیمی ماہرین اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کو موثر اور مربوط بنانے میں منتظمین کی کاوشیں لائقِ ستائش رہیں۔پروگرام کے آخر میں فروغِ اردو سوسائٹی کے صدر نے مہمانانِ گرامی، شرکاءاور تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے علمی پروگرام اردو زبان کے فروغ، اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور تعلیمی شعور اجاگر کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔یہ کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب رہی اور شرکاءنے اس کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔