ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کی جلد ماتوشری میں ملاقات!
ممبئی:۔(محمدیوسف رانا) شیوسینا کی لیڈر دیپالی سید کے ایک ٹوئیٹ نے مہاراشٹرکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق دیپالی سید نے ٹویٹراکاونٹ سے ٹوئیٹ کرکے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ دیپالی سید نے اپنے ٹویٹ میں کہاک یہ سن کر بہت اچھا لگا کہ اگلے دو دنوں میں محترم ادھو صاحب اور محترم شندے صاحب پہلی بار شیوسینکوں کے جذبات پر بات کرنے کے لیے ماتوی شری میں ملاقات کرنے والے ہیں۔
شندے صاحب شیوسینکوں کی حالت زار کو سمجھتے تھے اور ادھو صاحب نے خاندان کے سربراہ کا کردار بڑے دل سے ادا کیا تھا۔ اس میں ثالثی میں مدد کرنے کے لیے بی جے پی رہنماؤں کا شکریہ۔دیپالی سید کے اس ٹوئٹ کے بعد سے یہ مانا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست میں واقعی کچھ ایسا ہونے والا ہے جو سب کو حیران کر دے یا یہ محض رسمی ہی رہ جائے گا۔
ایسے میں یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا کہ اگر شندے اور ادھو ملتے ہیں تو بی جے پی درحقیقت ثالث کے کردار میں نظر آئے گی۔ دراصل ایک دن پہلے دیپالی سید نے ایک اور ٹویٹ کیا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محترم آدتیہ صاحب کو جلد کابینہ میں آنا چاہیے۔
شیوسینا کے۵۰؍ ایم ایل اے ماتوشری پر حاضر ہوں۔ محترم ادھو صاحب اور محترم شندے صاحب کو متحد ہونا چاہیے۔ کیونک شیوسینا کوئی گروپ نہیں بلکہ ہندوتوا کا گڑھ ہے۔ اور بھگوا جھنڈاہمیشہ اس پر لہراتا رہے گا۔شیوسینا لیڈر نے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کی ملاقات کو لے کر بڑا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی گلیاروںمیںقیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ بی جے پی اور شیو سینا کی پری پلان گیم تھی، جب کہ کچھ اسے مختلف انداز میں سیاسی داؤ کہہ رہے ہیں۔ یہ بحث بھی عام ہو گئی ہے کہ کیا بی جے پی اور شیوسینا دوبارہ متحد ہو جائیں گے؟
یہ سیاسی ہلچل شیوسینا لیڈر دیپالی سید کے ٹویٹ کی وجہ سے اٹھ رہے ہیں۔واضح رہےاستعفیٰ دینے سے پہلے ادھو ٹھاکرے نے کئی بار باغی اراکین اسمبلیسے بات کرکے انہیں منانے کی کوشش کی۔مگرشندے سمیت باغیوں کامطالبہ تھا کہ وہ این سی پی اور کانگریس کے ساتھ حکومت نہیں چلائیں گے۔ جس کے بعد شیوسینا کے۴۰؍ ایم ایل ایز اور ایکناتھ شندے سمیت۱۰؍ آزاد ایم ایل اے نے الگ الگ اپنا دعویٰ پیش کیا اور ایم وی اے حکومت کو اقتدار سے باہر ہونا پڑا۔ ساتھ ہی ایک ہفتہ طویل سیاسی ڈرامے کے بعد ایکناتھ شندے نے وزیر اعلیٰ اور دیویندر فڑنویس نے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔