ادھوے ٹھاکرے کے ہاتھ سے اقتدار جانےکا خدشہ ختم

downloadممبئی: مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے مجلس قانون ساز کے لئے بلا مقابلہ منتخب کر لئے گئے ہیں۔ اس انتخاب میں کل 13 میں 4 امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے تھے۔ لہذا وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سمیت 9 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے۔ بی سے پی سے چار، شیو سینا اور این سی پی سے دو دو اور کانگریس سے ایک رکن منتخب کیا گیا۔

28 نومبر کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے والے ٹھاکرے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں تھے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے انہیں 27 مئی تک مجلس قانون ساز کا رکن ہونا ضروری تھا۔ واضح رہے ریاست کے ایوان بالا میں 9 خالی نشستیں ، قانون ساز اسمبلی کے 288 ممبران پر مشتمل انتخابی کالج کے ذریعے رائے شماری سے پُر کی جاتی ہیں۔

ادھو ٹھاکرے بلا مقابلہ منتخب ہونگے یہ بات اسی وقت واضح ہو گئی تھی جب مہاراشٹر قانون ساز کونسل کی 9 نشستوں کے لیے 21 اپریل کو ہونے والے انتخاب کے لیے انہوں نے اپنی اہلیہ، فرزند کابینی وزیر ادتیہ ٹھاکرے اور مہا وکاس آگھاڑی کے قائدین جن میں راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار، ریاستی کانگریس کے صدر اور وزیر محصول بالاصاحب تھوراٹ اور شیوسینا کے سینئر رہنما کے ہمراہ اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔

مجلس قانون ساز کے لئے جو ارکان منتخب ہوئے ہیں ان میں شیو سینا سے ادھو ٹھاکرے، نیلم دیواکر راؤ گورہے، بی سے پی سے گوپی چند پڈلکر، پروین دٹکے، رنجیت سنگھ موہیتے پاٹیل، رمیش کشی رام کراڈ، این سی پی سے ششی کانت جے ونت راؤ شیندے، امول رام کرشن مٹکری اور کانگریس سے راجیش دھونڈی رام راڈھوڑ شامل ہیں۔

شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پرچہ نامزدگی داخل ہونے کے بعد کہا تھا ’’ایم ایل سی کی 9 نشستوں پر انتخابات بلا مقابلہ ہوں گے۔ ہم نے کانگریس کی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال میں کہا کہ یہ وقت انتخابات کا نہیں بلکہ کوویڈ 19 کی وبا کا مقابلہ کرنے کا ہے۔ انہوں نے ہماری درخواست کا احترام کیا اور خوش اسلوبی سے اپنے دوسرے امیدوار کو واپس لے لیا۔‘‘ کانگریس نے اپنے دوسرے امیدوار راج کشور عرف پاپا مودی کو بھی فارم واپس لینے پر رضامند کر لیا تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading