اجودھیا فیصلے سے پہلے وزارت داخلہ کی ریاستوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

نئی دہلی،7نومبر(یواین آئی)اجودھیا میں رام مندر اور بابری مسجد معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر حکومت نے سبھی ریاستوں کو احتیاط برتنے اور امن و قانون پر سخت نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

اترپردیش میں احتیاط کے طورپر مرکزی پولیس فورس کے تقریباً چار ہزار جوانوں کو بھیجا گیا ہے۔وزارت داخلہ کے ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ اجودھیا فیصلے کے پیش نظر سبھی ریاستوں کو ایک عام مشورہ بھیجا گیا ہے۔مشورے میں سبھی ریاستوں کو امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے ضروری احتیاطی قدم اٹھانے کو کہا گیا ہے۔ریاستوں سے کہاگیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے ناخوشگوار حالات پیدا نہ ہونے دیں اور سبھی سرگرمیوں پر سخت نظر بنائے رکھیں۔

وزیراعظم نریندرمودی بھی مرکزی کونسل کی میٹنگ میں سبھی وزرا کو اس فیصلے کے بارے میں بے وجہ کے بیانات سے بچنے کی صلاح دے چکے ہیں۔فیصلے سے پہلے لاکھوں کی تعداد میں رام بھکتوں کے اجودھیا پہنچنے کے پیش نظر اترپردیش سے مرکز نے خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔وہاں مرکزی پولیس فورس کے تقریبا ً 4000جوانوں کو بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی آئینی بینچ نے اجودھیا معاملے کی سماعت گزشتہ 16اکتوبر کو پوری کرلی تھی اور اپنا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔جسٹس گوگوئی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے 17نومبر کوبینچ اس معاملے میں اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔

دہائیوں سے جاری تنازعہ کے حل پر پورے ملک کی نظریں ہیں۔دونوں فریق اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ہندو اور مسلم سماج نے لوگوں سے فیصلے پیش نظر سماجی بھائی چارہ بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading