3 سال کی معصوم بچی آنچل کو بہت اچھا لگتا تھا جب اپنے بھائیوں کو پڑھنے کے لیے جاتا ہوا دیکھتی تھی۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ضد کر کے وہ بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ اسکول پڑھنے جانے لگی۔ لیکن 3 فروری کے روز جب وہ بھائیوں کے ساتھ اسکول گئی تو کچھ ایسا ہوا کہ واپس گھر نہ آ سکی۔ اتر پردیش کے مرزاپور ضلع میں رام پور اتری اسکول میں جب مڈ ڈے میل کے لیے سبزی بنائی جا رہی تھی تو آنچل اس گرم برتن میں گر گئی اور بری طرح سے جھلس گئی۔ سنگین حالت میں اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن پیر کی شام اس کا انتقال ہو گیا۔
Mirzapur district magistrate Sushil Kumar Patel: Directions have been given for the immediate suspension of the Headmaster of the school. Basic Education Officer has been asked to lodge an FIR. Action will be taken against the people responsible. (03.02.2020) pic.twitter.com/PzyQB6j9ab
— ANI UP (@ANINewsUP) February 3, 2020
میڈیا ذرائع کے مطابق پیر کی دوپہر یہ حادثہ اس وقت ہوا جب باورچی کان میں ائیر فون لگا کر گانا سننے میں مشغول تھی اور کھیلتے ہوئے آنچل مڈ ڈے میل پکانے والی جگہ پر آ گئی اور سبزی بنانے والے برتن میں گر گئی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہاں باورچی خانہ میں موجود خواتین اسے برتن سے نکالنے کی جگہ فرار ہو گئیں۔ جب ہنگامہ ہوا تو بچی کو نکال کر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس واقعہ سے علاقے میں غم و اندوہ کی لہر پھیل گئی ہے۔ آنچل کے گھر میں تو ماتم کا سماں ہے۔
مرزا پور کے ضلع مجسٹریٹ سشیل کمار پٹیل نے اس پورے واقعہ پر سخت کارروائی کرتے ہوئے اسکول پرنسپل کو معطل کرنے کے ساتھ ہی مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی صادر کر دیا ہے۔ مرزا پور بیسک ایجوکیشن افسر نے اس حادثہ کے تعلق سے بتایا کہ ’’معاملہ میری جانکاری میں آیا ہے۔ متعلقہ ڈویژن کے ایجوکیشن افسر سے رپورٹ ملنے کے بعد میں اس کی جانچ کراؤں گا۔ تحقیقات کے بعد کارروائی بھی کی جائے گی۔ مجھے بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی اسکول کی طالبہ نہیں تھی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’طالبہ کچھ ماہ سے اسکول آ کر ابھی کلاس میں بیٹھنا سیکھ رہی تھی۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے کے دوران وہ سبزی کے بھگونے میں گر کر سنگین طور پر جھلس گئی۔ اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں کچھ گھنٹے علاج کے بعد شام میں انتقال ہو گیا۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو