اتر پردیش: بی جے پی رکن اسمبلی اور ان کے بھتیجے پر عصمت دری کا الزام، کارروائی کا مطالبہ

بھدوہی: اترپردیش کے ضلع بھدوہی پیر کو وارانسی کی رہنے والی ایک خاتون نے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)ایم ایل اے رویندر ناتھ ترپاٹھی اور ان کے بھتیجے سندیپ تیواری پر عصمت دری کا الزام لگاتے ہوئے ملزمین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وارانسی کی رہنے والی خاتون نے پیر کو بھدوہی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رام بدن سنگھ کے دفتر پہنچی اور انہیں دی گئی اپنی تحریری شکایت میں بی جے پی رکن اسمبلی اور ان کے بھتیجے پر سنگین الزامات عائد کیے۔

وارانسی باشندہ انل کمار کی بیوی ہیما شرما نے کے مطابق وہ وارانسی سے اپنے مائیکے جارہی تھی۔ اسی ٹرین میں ایم ایل اے رویندر ناتھ ترپاٹھی کے بھتیجے سندیپ تیواری سے ملاقات ہوئی۔ ٹرین میں ہی بات چیت کے دوران سندیپ تیواری نے موبائل نمبر مانگا۔ موبائل نمبر پر دونوں سے بات چیت ہوتی ہے۔ بات چیت میں سندیپ نے کہا کہ اس کی شادی نہیں ہوئی ہے اور وہ شادی کرنا چاہتا ہے۔

خاتون کا الزام ہے کہ 8 اگست 2016 کو سندیپ تیواری نے فون کر اسے وارانسی کینٹ بلایا اور اسے ایک ہوٹل میں لے گیا اور شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ منھ کالا کیا۔پھر ستمبر 2016 میں سندیپ شادی کرنے کی بات کہہ کر اسے لے کر ممبئی چلاگیا ۔وہاں بھی اس نے ہوٹل میں اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ سال 2017 میں سندیپ اسے ممبئی سے بھدوہی لےکر واپس آگیا۔دونوں بھدوہی اسٹیشن سے سیدھے ایک ہوٹل پہنچے۔خاتون کا الزام ہے کہ اس ہوٹل میں بھی تین دنوں تک اسے روکا گیا اور کئی بار اس کی عصمت دری کی گئی۔

اس دوران سندیپ کے چچا رویندر ناتھ ترپاٹھی(بھدوہی رکن اسمبلی)۔بھتیجہ سچن تیواری،دیپک تیواری، نتیش تیواری، چندر بھوشن تیواری،پرکاش تیواری ہوٹل میں آتے اور اس کے ساتھ اپنی خواہش پوری کرتے تھے۔ جب اس بات کی شکایت متأثرہ خاتون نے سندیپ تیواری سے کی تو اس نے منھ بند رکھنے کی دھمکی دی۔

وہیں خاتون کے اس الزام پر رکن اسمبلی رویندر ناتھ ترپاٹھی نے کہا کہ انہیں ایک سازش کے تحت پھنسایا جارہا ہے۔انہوں نے کانکنی مافیاؤں کی مخالفت کی تھی اسی لئے ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ رکن اسمبلی کے مطابق وہ الزام لگانے والی خاتون کو جانتے بھی نہیں ہیں۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو پورے معالے کی جانچ کی ذمہ داری سونپی ہے۔چارج شیٹ کے بعد آگے کی کارروائی کی جائےگی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading