اب مریضوں کو مہنگی دوائیاں لکھنے والے ڈاکٹروں کی خیر نہیں، حکومت کا خاص منصوبہ تیار!

نئی دہلی:کئی بار مریضوں کو یہ شکایت کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہ ڈاکٹرس انھیں مہنگی دوائیاں لکھتے ہیں۔ غریب مریضوں کو اس سے پریشانی ہوتی ہے کیونکہ وہ مہنگی دوائیاں خریدنے سے کئی مواقع پر قاصر رہ جاتے ہیں۔ لیکن اب مریضوں کو ڈاکٹرس سے یہ شکایت نہیں رہے گی۔ ایسا اس لیے کیونکہ مرکزی حکومت نے اس کے لیے ایک خاص منصوبہ تیار کیا ہے۔

مریضوں کو مہنگی دوا لکھنے والے ڈاکٹرس کی اب خیر نہیں ہوگی! ایسا اس لیے کیونکہ حال ہی میں مرکزی حکومت نے ڈاکٹروں کو سخت لہجے میں تنبیہ کی ہے کہ وہ مریضوں کو باہر کی مہنگی دوائیں نہ لکھیں۔ باہر کی دواؤں میں صرف Generic دوائیں ہی مریض کے پرچہ پر لکھیں۔ اگر کوئی ڈاکٹر حکومت کی ہدایت پر عمل نہیں کرے گا تو اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے ڈاکٹروں کو باہر سے صرف Generic دوائیں لکھنے کی ہی اجازت دی ہے۔ کوئی بھی ڈاکٹر مریض کو باہر سے مہنگی دوا نہیں لکھ سکتا ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر کسی پرائیویٹ میڈیکل اسٹور سے مہنگی دوا لکھتا ہے تو اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی۔ کمیشن کے چکر میں ڈاکٹر مریض کی صحت کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر سکتے ہیں۔

حالانکہ ان Generic دواؤں کو لکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حکومت ملک میں سستی Generic دواؤں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ ہر جگہ سستی قیمت میں Generic دوائیں دستیاب رہیں، جس سے غریب سے غریب انسان بھی اپنا علاج سستے میں کروا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ ملک کی تقریباً سبھی ریاستوں اور شہروں میں Generic دواؤں کے لیے ’جَن اوشدھی کیندر‘ موجود ہیں۔ ان مقامات پر لوگوں کو آسانی سے سستی قیمت میں مہنگی دوائیاں مل جاتی ہیں۔ اس سے غریب مریضوں کو بھی اپنا علاج کرانے میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading