اب حکومت نے ہی رام مندر اراضی کیلے سپریم کورٹ میں درخواست دی

نئی دہلی ۔29۔جنوری ۔مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی لگائی ہے کہ ایودھیا میں 67 ایکڑ زمین حکومت کی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ایودھیا میں صرف 2.77 ایکڑ زمین پر تنازعہ ہے اور باقی زمین پر کوئی تنازعہ نہیں ہے، لہذا زمین کا کچھ حصہ رام جنم بھومی نیاس کو دیا جائے۔مرکزی حکومت نے اپنی درخواست میں کہا کہ 67 ایکڑ زمین حکومت نے حاصل کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے کہا کہ 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کے علاوہ باقی زمین پر کوئی تنازعہ نہیں ہے، لہذا اس پر موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں ہے.

مرکزی حکومت نے آگے کہا کہ حاصل کی گئی 67 ایکڑ زمین میں سے 48 ایکڑ رام جنم بھومی نیاس کا ہے۔ اس میں سے 41 ایکڑ زمین کلیان سنگھ حکومت نے 1991 میں انہیں دی تھی۔ باقی انہوں نے خریدی تھی۔ وہیں، باقی کی 19 ایکڑ زمین حکومت کی ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر مالکان نے حکومت سے معاوضہ لے لیا ہے۔wوہیں، اس معاملے میں فریق اقبال انصاری نے کہا کہ’’ انہیں حکومت کی اس درخواست سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ‘بابری مسجد کے علاوہ حکومت زمین کا کوئی بھی دوسرا حصہ لینے کے لئے آزاد ہے۔ ہمیں حکومت کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں ہے‘‘۔

وہیں، رام للا کے پجاری آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ تنازعہ صرف 2.77 ایکڑ زمین پر ہے، لیکن جب تک اس زمین کا نمٹارا نہیں ہوجاتا تب تک رام مندر نہیں بن پائے گا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading