اورنگ آباد : 16 اپریل (یو این آئی)کووڈ- 19 کے سبب آج پورے ملک میں لوگ مختلف نوعیت کی پریشانیوں اور مشکلات کاشکار ہیں ایسے وقت میں غریب مزدور پیشہ طبقہ اور انتہائی قلیل آمدنی پر گزارا کرنے والے افراد انتہائی سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں، ان میں ائمہ و موزنینِ مساجد کی ایک قابل لحاظ تعداد بھی شامل ہے، جن کی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے۔
اور انکا گزر بسر مساجد میں نمازوں کے بعد اور بطور خاص نماز جمعہ کے بعد جمع ہونے والے عوامی چندے پر منحصر ہے۔ ایسے ائمہ و موزنینِ مساجد کو مہاراشٹر وقف بورڈ ہر ماہ پانچ ہزار روپیے بطور تنخواہ ادا کرے اس طرح کا مطالبہ مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آباد کی جانب سے کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر وقف بورڈ کو، مسلم نمائندہ کونسل کے صدر ضیاء الدین صدیقی کی جانب سے دیے گئے ایک محضر میں کووڈ- 19 کے سبب موجودہ صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب جبکہ ، لاک ڈاؤن کی مدت میں 3 مئی تک مزید توسیع کر دی گئی ہے،صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے، مساجدمیں بطور احتیاط نمازیں نہیں پرھی جا رہی ہیں نیز جمعہ کی نمازیں بھی نہیں ہو رہی ہیں۔ ایسی حالت میں ایسے ائمہ و موزنینِ مساجد جن کا گزر بسر جمع ہونے والے چندوں پر ہی منحصر ہے، وہ سخت پریشانی اور مصائب کا شکار ہیں۔ اس لیے وقف بورڈ کی جانب سے انھیں ہرماہ 5000 روپیہ بطور تنخواہ ادا کئے جائیں۔
محضر میں کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا ، وقف بور کے قیام کی منشاء اور اغراض و مقاصد کے عین مطابق ہو گا اور عوام کی نظروں میں وقف بورڈ کی وقار اور عزت و احترام میں اضافے کا سبب بھی بنے گا۔