اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
آج کل مہنگائی کا دور دورہ ہے۔ ایک طرف ضروریاتِ زندگی کے مد میں آنے والے اشیاء کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں تو دوسری طرف لوگوں میں قوت خرید تیزی سے گھٹ رہی ہے۔اچھے بھلے بھی (جن کی آمدنی اور تنخواہیں لاکھوں میں ہے)، حالات سے گھبرا کر کراہنے لگیں ہیں تو ایسے میں سماج کے اُس طبقہ پر کیا کچھ گذررہی ہوگی جس کی تنخواہ میں ایک عرصے سے جمود طاری ہوچکا ہو، اُس کا اندازہ شاید ہی کوئی کر پائے۔ معاشی مجبوری ایک ایسا بوجھ ہے جس کے نیچے دب کر آدمی نہ صرف اپنے آپ کے آگے ذلیل ہوجاتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی اس کی وقعت کم ہوجاتی ہے۔
اسلام دین اعتدال ہے۔ اس کے نزدیک سماج میں کے ہر فر د کی اہمیت ہے۔ وہ جہاں مالکوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اُن کی مزدوری ادا کر دی جائیں وہیں یہ بھی کہتا ہے کہ اگر مزدور نے کام میں جان بوجھ کر کوئی کوتاہی کی تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اُس کے لے حلال نہیں ہے۔ملازمین اور ماتحتین کی تنخواہیں کم از کم اتنی ضرور ہونی چاہئے کہ وہ اپنی ضروریات زندگی کے حصول میں پریشان اور خوار نہ ہوتے پھریں۔ اگر سماج کے عام افراد کے تعلق سے اسلام میں اتنی تاکید ہے تو وہ لوگ جو معاشرے میں اسلام کی علامت سمجھے جاتے ہیں ان کی کتنی اہمیت ہوگی یہ ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔
ہمارا معاشرہ ایک زوال پذیر معا شرہ ہے، ہم معاشی، دینی اور اخلاقی ہر میدان میں دیوالیہ ہوتے جارہے ہیں اور اس کی ذمہ دار بھی ہم خود ہیں۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی معاشرے میں فعالیت لانے کے لئے انقلابی اصلاحات کرتے رہتے ہیں، چاہے اس کی وجہ سے انہیں خود اپنے معاشرے کی مخالفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑیں۔ لیکن ہم اپنی دقیانوسی سوچ کے ساتھ اندھی تقلید میں مبتلا ہر اس عمل سے بدکتے ہیں جس سے تبدیلی کی بو آتی ہے۔ اکابرین اور بزرگوں کی رٹ لگاتے لگاتے ہماری اپنی سوچ مردہ ہوچکی ہے۔ کسی بھی معاملے میں ہم حالات کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کرنے سے خوف کھاتے ہیں۔ ہم میں موجود خود اعتمادی کی کمی ہی ہمارے زوال کی حقیقی وجہ ہے۔
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کے دور میں اگر کوئی عام سی زندگی بھی جینا چاہے تو اس کے لئے کتنا خرچ ہوگا۔ ہم خود اس مرحلے سے بارہا گذرتے رہتے ہیں لیکن جب ہمارے ان ماتحتین کا معاملہ آتا ہے جن سے ہماری کوئی معاشی وابستگی نہیں ہوتی، جو ہمارے ماتحت میں ہوتے ہوئے بھی راست ہمارے ماتحت میں نہیں ہوتے جیسے پیش امام، موذن اور خادم مسجد تو پھر ہمیں بزرگوں کی روایتیں، بیت المال کی حفاظت، اور اس کو لے کر آخرت کا خوف بری طرح جکڑ لیتا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم نے جو تنخواہیں اسلام کے ان علامتی شخصیتوں کے لئے طے کر رکھے ہیں اس میں ان کا گذارا بہت مشکل ہے، ہم انہیں توکل کا سبق پڑھا کر قناعت کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔خود پر حد اعتدال سے زیادہ خرچ کرنے میں ذرا برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرینگے لیکن ان خادمین اسلام کی تنخواہیں بڑوں کا حوالہ دے کر اُن کے طے کردہ اصولوں پر ہی دینگے۔ ہماری اس ماضی پرستی کے نتیجے میں معاشرے کایہ معتبر طبقہ کن مشکلات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اس کا ہم رتی برابر بھی اندازہ نہیں کرسکتے۔ جدید معیار زندگی کو مد نظر رکھ کر جب تک ہم اپنے ان معتبر خادمین اسلام پر کشادگی اور فارغ البالی کے دروازے وا نہیں کرینگے قدرت بھی ہمیں آسودگی اور معاشی اطمینان سے نہیں نوازے گی۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔