آپٹیمس: ٹیسلا کا ’انسان نما روبوٹ‘ جو مستقبل قریب میں آپ کی زندگی آسان بنا سکتا ہے

ٹیک ارب پتی ایلون مسک نے اپنی ٹیسلا الیکٹرک کار کمپنی کی جانب تیار کردہ انسان نما روبوٹ کے جدید ترین پروٹو ٹائپ کی رونمائی کی ہے۔

اس روبوٹ کا نام ’اوپٹیمس‘ رکھا گیا ہے جو سلیکون ویلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں سٹیج پر نمودار ہوا جہاں اس نے سامعین کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور اپنے گھٹنے اوپر کو اٹھائے۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ابھی اس روبوٹ پر کام جاری ہے لیکن چند سالوں میں اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے لایا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے انجینئرز کا کہنا ہے کہ ٹیسلا کے روبوٹس کو کار بنانے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین کے متبادل کے طور پر ٹیسٹ کیا جائے گا۔اس پروٹوٹائپ کو سالانہ منعقد ہونے والے ٹیسلا اے آئی ڈے (مصنوعی ذہانت) پریزنٹیشن کے دوران سٹیج پر متعارف کروایا گیا۔

اس دوران اوپٹیمس کی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں وہ سادہ نوعیت کے کام انجام دیتے نظر آتے ہیں، جیسے پودوں کو پانی دینا، ڈبوں اور دھات کی سلاخیں اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنا۔

مسک کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو بہت زیادہ تعداد میں تیار کیا جائے گا اور ایک روبوٹ کی قیمت 20 ہزار ڈالر (17900 پاؤنڈ) سے کم رکھی جائے گی اور یہ تین سے پانچ سال میں دستیاب ہوں گے۔

ٹیسلا باس نے مستقبل میں کثرت سے روبوٹس کے استعمال کی بھی بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ انسانی تہذیب میں ایک بنیادی اور اہم تبدیلی ہے۔‘ایلون مسک ایک کاروباری شخصیت ہیں، جنھوں نے ایک بار مصنوعی ذہانت کے انسانیت کے لیے خطرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیسلا اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ایک معاشرہ ہو جس میں روبوٹ کام کریں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں اور اسی طریقے سے اس معاشرے کو بچایا جا سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading