شعبان المعظم شروع ہوچکا ہے اور رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ ہمارے لئے رحمتوں اور مغفرتوں کی نوید لے کر آنے ہی والا ہے….
روزہ دینِ اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔
رمضان المبارک کے روزے رکھنا ہر مسلمان بالغ صحت مند مرد و عورت پر فرض ہے۔
رمضان المبارک کو ماہِ صیام اور عبادتوں کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں مسلمان عبادت کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔
یہ احساس ، ہمدردی اور غمخواری کا مہینہ ہے۔
اسے جشنِ قرآن کا مہینہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں قرآن پاک کا نزول ہوا ہے۔
اس ماہ میں ایک نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے… اس ماہِ مقدس کی بے شمار فضیلتیں اور برکتیں ہیں…
صحابہ کرام، تابعین اور دیگر اسلاف کا طریقۂ عمل کچھ یوں تھا کہ رمضان کا خاص اہتمام کرتے اور رمضان کی آمد پر اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے۔ اللہ تعالی سے دعا کرتے کہ انہیں رمضان نصیب ہوجائے۔
اور جب رمضان کا چاند نظر آجاتا تو وہ محنت اور محبت سے اس ماہ کی عبادت و ریاضت میں مشغول ہوجاتے۔
قیام اللیل (تراویح) تلاوتِ قرآن ، غربا و مساکین کا خیال ، صدقہ و خیرات جیسے اعمالِ صالحہ کی انہیں خاص فکر ہوا کرتی تھی۔ یہ اعمال ہم سب کے لئےمشعلِ راہ ہیں۔
ہمیں بھی ان اعمال کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دینے کی ضرورت ہے۔
ہمارے لئے اس بار ماہِ رمضان ہر بار کی بہ نسبت کچھ الگ ہوگا… اب ہم سب کے پاس رمضان المبارک سے فیض یاب ہونے کے لئے وقت ہی وقت ہے ورنہ ہمارے پاس دنیا جہاں کی مصروفیت کے کئی بہانے ہوتے ہی ہیں لیکن اس بار( لاک ڈاؤن) نے ہمیں بھر پور وقت دے دیا ہے اپنے رب کو منانے، اس کے حضور توبہ و استغفار ، خشوع و خضوع سے عبادت کرنے اور رمضان المبارک کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لئے۔
یہ ماہِ مقدس ہمارے لئے اپنی بخشش و مغفرت کا سامان کرنے کے لئے ہمیں عطا کیا گیا ہے۔
ہم صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اس ماہ کے اصل مقصد کی طرف بھی توجہ دیں۔
تقوٰی کا حصول،
تربیتِ نفس،
تربیتِ صبر و شُکر،
اور
غرباء و مساکین کا احساس، ان کا خیال رکھا جائے۔ ان کی خبر گیری کی جاۓ۔ ان کی مدد کی جاۓ۔
غفلت میں ڈوبی زندگی کو اصل مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کیاجائے، گزشتہ گناہوں سے توبہ اور آئندہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو پانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ رمضان المبارک کا ہم سے یہی تقاضا ہے۔
عائشہ نبیلہ بنت حافظ شیخ محمود قادری
اورنگ آباد