آرایس ایس کی مسلم رائے دہندگان پر خاص نظر

اتراکھنڈ کے بلدیاتی انتخابات میں بھلے ہی اہم مقابلہ بی جے پی اورکانگریس کے درمیان ہو، لیکن پردے کے پیچھے سنگھ پریوارکے کارکنان بی جے پی کے لئے ماحول بنانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ آرایس ایس نے ریاست کی تمام 78 بلدیہ میں اپنے کل وقتی کارکن تعینات کردیئے ہیں۔صرف ہندوآبادی والےعلاقوں میں نہیں آرایس ایس کی نظریں مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی ہے۔ اس کے لئے آرایس ایس کی ماتحت تنظیم مسلم راشٹریہ منچ ان علاقوں کی رپورٹ پیش کررہا ہے۔ آرایس ایس کا پورا منصوبہ ہے کہ اب مسلم رائے دہندگان کو اپنے پالے میں لایا جائے۔اتراکھنڈ میں انتخابی شوربھلے ہی شہرکی چھوٹی حکومت کے لئے ہورہا ہو، لیکن یہ واضح ہے کہ ان انتخابی نتائج کا 2019 پراثرنظرآئے گا۔ اسی لئے راشٹریہ سیوم سنگھ (آرایس ایس) ہربلدیاتی انتخابات پرقریبی نظربنائے ہوئے ہے۔ آرایس ایس نے مانیٹرنگ کے لئے باقاعدہ اپنے دودوکل وقتی کارسیوکوں کو 78 شہروں میں تعینات کردیا ہے، جو الیکشن کے ہراتارچڑھاو پرنظربنائے ہوئے ہیں۔

آرایس ایس کی سرگرمی کا ثبوت خود بی جے پی لیڈران دے رہے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی انچارج شیام جاجونے ہلدوانی میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ راشٹروادی پارٹی کے سبھی دوست الیکشن میں پارٹی کی مدد کرتے ہیں۔ مختلف تنظیموں، این جی اومدد کرتے ہیں اورسب کوساتھ لے کرچلنا بی جے پی کا کام ہے۔آرایس ایس کی خصوصی نظرمسلم اکثریتی علاقوں میں ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ کے ریاستی صدرزیڈ اے وارثی کہتے ہیں کہ بی جے پی حکومت نے مسلم خواتین کے وقارکے لئے بہت کام کئے ہیں۔ تین طلاق اورحلالہ پراٹھائے گئے حکومت کے اقدامات کے بعد بی جے پی کو امید ہے کہ مسلم خواتین پارٹی کے لئے ووٹ کریں گی

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading