نئی دہلی: یوگ گرو رام دیو نے حکومت سے ملک میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوامی رام دیو نے جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں کی کانفرنس میں کہا ہےکہ حکومت کو آبادی کنٹرول کرنے کے سلسلے میں سخت اقدام کرنے چاہئیں اور دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو سزا دیئے جانے کا التزام کیا جانا چاہئے۔
انہوں نےبتایا کہ ملک کی آبادی 125 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے اور یہ قابو میں نہیں آرہی ہے۔ اس پر سوچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قدرتی وسائل میں کمی ہے۔ ملک میں صنعتی ترقی اور شہری آبادی میں اضافہ کی وجہ سے کھیتی کی زمینیں کم ہورہی ہیں۔ پانی کے بحران میں اضافہ ہورہا ہے اور کئی دیگر قسم کے مسائل پیدا ہورہے ہیں جس کی وجہ سے آبادی کو قابو کرنے کی ضرورت ہے۔
رام دیو نے جے این یو اور شاہین باغ کے مظاہروں کو بھی بند کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلباء اور قومی راجدھانی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہی تحریک کو واپس لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کا کام ہنرداری کو فروغ دینا ہے۔
رام دیو نے کہا کہ ’’تحریک چلانا سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور تشدد، انارکی اور انتشار پھیلانا طلباء کا کام نہیں ہے۔ طلباء کا کام ہنر مندی پیدا کرنا اور کردار کی تعمیر کرنا ہے۔ طلبا کو اپنی توانائی کو ملکی ترقی میں لگانا چاہئے۔‘‘
رام دیو نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور شہید بھگت سنگھ کے ’آزادی‘ کے نعرے تو ٹھیک ہیں لیکن جناح کا ’آزادی‘ کا نعرہ قوم کو دھوکہ دینے اور غداری کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’کچھ سیاسی، مذہبی لوگ اور غیر ملکی قوتیں ملک میں منافرت پیدا کرنا چاہتی ہیں جو خطرناک ہے۔ اس سے ملک بد نام ہے۔ میں محب وطن مسلمانوں کا احترام کرتا ہوں لیکن کچھ مسلمان وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی قبر کھودنے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ مسلم طبقہ کا نظریہ نہیں ہے لیکن کچھ سرپھرے ایسا کر رہے ہیں۔ اسلام کے اہم رہنماؤں کو اس کی مخالفت کرنی چاہئے۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو