میگھالیہ کا وہ گاؤں جو بولتا نہیں ، سیٹی بجاتا ہے

0 12
کانگ تھانگ۔۔۔۔ہندوستان کی مشرقی ریاست میگھالیہ کا گاؤں جہاں جنگلوں میں آپ کو مختلف قسم کی سیٹیاں اور چہچہاہٹ کی گونج سنائی دیگی۔ ان آوازوں کو اکثر لوگ چڑیوں کی آواز سمجھتے ہیں لیکن اس گائوں کے لوگ ایک دوسرے کو بلارہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کی یہ عادت آپ کو الگ ضرور محسوس ہوسکتی ہے لیکن یہ عادت یہاں کی روایت ہے۔شمال مشرقی ریاستوں میں میگھالیہ کی حسین اور دلکش وادیوں میں آباد اس انوکھے گائوں کا نام’’کانگ تھانگ‘‘ہے۔ایک دوسرے کو کسی خاص دھن یا آواز سے مخاطب کرنا یہاں کے لوگوں کی خصوصیت ہے۔ کانگ تھانگ اور گردونواح میں مائیں بچوں کیلئے مخصوص دھن یا موسیقی ترتیب دیتی ہیں جس کے بعد گائوں کے لوگ اس بچے کو تاحیات اسی دھن میں بلاتے ہیں۔والدین بچوں کے نام روایتی انداز کے بھی رکھتے ہیں’یہاں’’ خاصی ‘‘قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔یہاں مکانات لکڑیوں اور چھتیں ٹین کی چادروں سے بنائے جاتے ہیں۔
رات کے وقت خواتین بچوں کومخصوص آواز میں پکارتی ہیں جو غیرروایتی محسوس ہوتا ہے۔ علاقے کی ایک خاتون شبانگ کہتی ہیں کہ بچے کیلئے دل کی گہرائیوں سے خاص قسم کی نکلنے والی موسیقی جذبات کی ترجمان ہوتی ہیں۔اس میں خوشی اور محبت کے جذبے پوشیدہ ہوتے ہیں۔خاصی قبیلے کے رہنما روتھل خانگسیت کا کہنا ہے کہ اگران کا بیٹا نامناسب حرکت کرتا ہے تو اس سے ناراضی کے عالم میں اس کے اصلی نام سے پکارتے ہیں۔یہاں کی آبادی تقریباً10ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔یہ لوگ ایک دوسرے سے ’’برڈ لنگویج‘‘یعنی چڑیوں کی زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ یونیسکو نے اس انوکھی زبان کو گزشتہ سال اپنے کلچرل ہیریٹج کی فہرست میں شامل کیا ہے۔