‘دینی مدرسوں میں دینی تعلیم صرف ایک گھنٹہ دینی ہوگی‘

538

دہرہ دون: 24/نومبر۔(ایجنسیز)اترکھنڈ وقف بورڈ نے آئندہ سال سے دینی مدارس میں این سی ای آر ٹی کا نصاب تعلیم اور ڈریس کوڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے دینی مدارس میں تعلیم کو عصری بنانے کی کوششوں کے ایک حصہ کے طور پر یہ فیصلہ کیاگیا ہے۔بورڈ نے تمام مذاہب کے بچوں کیلئے دینی مدارس کے دروازے کھولنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

\\اترکھنڈ وقف بورڈ کے صدر نشین شاداب شمس نے پی ٹی آئی کو آج یہ بات بتائی۔اترکھنڈ میں 103 مدرسے‘ بورڈ کے زیر انتظام ہیں۔ بورڈ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مدرسوں میں طلباء کو صرف ایک گھنٹہ کیلئے صبح 6:30 تا 7:30 بجے دینی تعلیم دی جائے گی اور دیگر اسکولوں کی طرح 8 بجے اور دو بجے دن عام مضامین کی کلاسس منعقد کی جائیں گی۔شمس نے کہا کہ ہم اپنے مدرسوں میں انگلش میڈیم اسکولوں کے خطوط پر این سی ای آر ٹی نصاب تعلیم اور ڈریس کوڈ متعارف کرائیں گے تاکہ طلبہ یہ محسوس کریں کہ وہ دیگر اسکول جانے والے بچوں کے مساوی ہیں۔

اس کا مقصد مدارس کے طلباء کو تعلیمی اصل دھارے میں شامل ہونے میں مدد کرنا اور انہیں بہتر مستقبل کیلئے تیار کرنا ہے۔بورڈ نے 7 ماڈل مدرسے قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دہرہ دون میں 2‘ ہردوار اور اُدھم سنگھ نگر اضلاع میں 2‘ 2 اور نینی تال میں 1 مدرسہ قائم کیا جائے گا جہاں اسمارٹ کلاسس بھی منعقد ہوں گی۔ شمس نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ مدارس عصری تعلیم کے مراکز بن کر ابھریں۔اسی دوران وقف بورڈ نے اپنے مدرسوں میں حفظ قرآن کی تعلیم کے دورانیہ کو 4 سال سے بڑھاکر 10 سال کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ کورس ختم ہونے تک طلباء دسویں اور بارہویں جماعت کامیاب ہوجائیں اور اس بات کا فیصلہ کرسکیں کہ وہ مذہبی تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں یا ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتے ہیں۔

شمس نے کہا کہ مدرسہ تعلیم کو عصری بنانے سے ان کی سرگرمیوں پر ظاہر کئے جانے والے شکوک و شبہات کا بھی ازالہ ہوجائے گا۔ چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی اور وزیر سماجی بہبود و اقلیتی امور چندن رام داس نے بورڈ کو اس کی کوششوں میں ہر ممکن مدد دینے کا تیقن دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ ان سے درخواست کرے گا کہ وہ مدرسہ کے طلباء کو این سی ای آر ٹی کی کتابیں مفت فراہم کریں۔