شادی سے انکار کرنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کا سفارش

437

چاڈ:افریقی ملک چاڈ کے شمالی مشرقی علاقے مانقالمی میں ایسے افراد پر جرمانے عائد کرنے کی سفارش کی گئی جو شادی کی غرض سے آنے والے رشتوں سے انکار کر رہے ہیں۔اس خطے کی اسلامک کونسل نے فیصلہ دیا ہے کہ رشتوں کو انکار کرنے والے مردوں پر لگ بھگ 15 ڈالر جبکہ خواتین پر 23 ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جائے۔

چاڈ میں خواتین کے حقوق کی تنظیم ‘چاڈین وویمنز رائٹس کونسل’ نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ غیرقانونی ہے کیونکہ ملک میں نافذ العمل قوانین شادی میں رضامندی کی آزادی کو یقینی بناتے ہیں۔اس جرمانے کو مقامی زبان میں ‘امچیلینی’ کہا جا رہا ہے اور خواتین کی تنظیموں کی طرف سے اس کے خلاف سوشل میڈیا ٹرینڈز بھی چلائے جا رہے ہیں۔تاہم دوسری جانب چاڈ کی اسلامک کونسل جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ قرآن میں درج ہدایات کے عین مطابق ہے۔

یاد رہے کہ چاڈ میں جبری شادیاں عام ہیں اور کم عمر بچیاں اکثر و بیشتر جبری شادیوں کا شکار بنتی رہتی ہیں۔اگرچہ سنہ 2015 میں ملک میں چائلڈ میریج کے خلاف قانون سازی کرتے ہوئے اس غیرقانونی قرار دیا گیا تھا مگر چاڈ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیس سے چوبیس سال کی 60 فیصد لڑکیوں کی شادیاں اس وقت ہوئی تھیں جب وہ کم عمر تھیں۔