تھانہ آر ٹی او افسران پر لوک آیوکت کی سرزنش نلیش جوشی اور سندیپ بسارے کی تنخواہوں میں اضافے پر روک

مہاراشٹرا کے دو ہزار بوگس بیچ ہولڈر آٹورکشا ہولڈروں پر فوجداری کا مقدمہ درج

بھیونڈی ( ایس اے ):- تھانہ کے لاپرواہ افسران کے خلاف اپنا رویہ سخت کرتے ہوئے لوک آیوکت نے عوامی مفاد میں اپنا فیصلہ سنایا ہے ۔ مفاد عامہ کا یہ فیصلہ راشٹریہ مانو حق منچ کے صدر شرد دھومال کی ان تھک کوششوں سے ممکن ہوا پایا ہے ۔ تھانے حدود کے علاقے میں ہر روز 1 کروڑ آبادی کے نفع اور ٹیکس وصولی کے لئے تھانہ شہر علاقے میں آر ٹی او آفس کو تعمیر کیا گیا ہے ۔ لیکن دفتر میں دلالوں کے سانٹھ گانٹھ کی وجہ سے افسران عوامی مفاد کو چھوڑ کر رشوت اور بدعنوانی کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہے ۔ تھانہ آر ٹی او میں بدعنوانی کا بازار اپنے سباب پر ہے ۔ مسلسل آٹورکشا ڈرائیور کے رکشہ پرمٹ اور بیچ گھوٹالے کے پیش نظر راشٹریہ مانو حق منچ کے صدر شرد دھومال نے اس میں ملوث افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ لوک آیوکت سے کیا تھا ۔ شرد دھومال کے اس مطالبے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لوک آیوکت نے یہ حکم منظور کیا ہے جس کی وجہ سے اب تھانہ آر ٹی او میں تعینات افسر نیلش جوشی اور سندیپ بسارے کی تنخواہوں میں اضافے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ مذکورہ منظور کئے گئے حکم کی وجہ سے مہاراشٹر کے 51 آر ٹی او دفتر میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 2000 بوگس آٹو رکشہ کے بیچ ہولڈروں پر فوجداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں شرد دھومال نے ایک قابل ستائش کوشش کی ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی پر قابو پانا ممکن ہوگیا ہے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading