ٹھنڈی سبیلیں گرم الاؤ

0 11
ALLAMA PHOTO RECENT
علامہ اعجاز فرخ ۔حیدرآباد(انڈیا)۔9848080612
محبت کا اپنا اثر ہے ‘اس کا رنگ بھی الگ ‘تاثیر بھی الگ‘ لیکن سب سے زیادہ اس محبت کا اثر ہے ‘ جو آہستہ آہستہ بدن میں سرایت کرتا ہے تو مٹھاس ایسی کہ شہد پھیکا اور ایک دو نہیں ہزار آتشہ ‘ جس کا خمار خوابیدہ کو بیدار اور بیدار کو مخمور رکھے اور پھر خمار بھی ایسا کہ ہر تشبیہہ ہیچ ‘ دیوانے کو ہشیار کرے تو ہشیار کو دیوانہ‘ لیکن کم بخت آنکھوں سے تو بدن میں اتر تا ہے اور آنکھوں ہی سے چھلکتا ہے۔ اس کے علاج سے طبیب عاجز‘ نسخہ لقمان بے اثر ‘ ابھی کچھ افاقہ ہوا تھا کہ چشم بیمار کر گئی ۔ وجود اس کا اتنا عادی ہو جاتا ہے کہ ذرادیر ہو گئی تو رگیں کھنچنے لگیں اور تیمار دار اٹھنے لگے کہ جاں بلب کا تڑ پنا بھی نہ دیکھا جائے ہے ۔ جانے لوگوں کے بدن میں اتنی وسعتیں کہاں سے آگئیں کہ نفرتوں کا زہر سارے وجود میں بھر کر یوں ڈستے پھرتے ہیں کہ سانپ کو کاٹ لیں تو سانپ مر جائے ۔یہاں تو محبت بھی نس نس میں بسی ہو اور وقت کی سوئیاں محبتوں کے اسیر کی زنجیریں بھی کاٹ ڈالے تو سانس کی چبھن ہر لمحہ ایک مرگ نو کی صورت میں لمحہ لمحہ زندگی اور موت کے رقص کوجاری رکھتی ہے ۔ اور یہ آرزو ہو نے لگتی ہے کہ کم از کم موت ہی آکے بچالے جائے ‘ ورنہ زندگی تو ہر لمحہ وجود کوزیر وزبر کرتی رہتی ہے۔ کچھ یہی حال حیدرآباد کی مٹی کی محبت کا بھی ہے ۔ اسی مٹی سے بنے ‘ اسی پر پیدا ہوئے ‘ یہیں پہلی سانس لی ‘ پہلی خوشبو بھی اسی مٹی کی سانس بھر وجود میں سمیٹ لی اور تمام عمر کے لئے اسی کے ہو کے رہ گئے۔ اب جس کے ہو کے رہ گئے سو ہو کے رہ گئے ۔ مٹی نے بھی اتنا ٹوٹ کے چاہا کہ کبھی تھک کر پل دو پل کو سرہانے ہاتھ دے کر سو گئے تو مٹی نے تمام سرد وگرم سے بے نیاز کردیا۔ کبھی لڑکپن میں کھیلتے کھیلتے گر جاتے اور زخم آجاتا تو وہیں سے مٹی لے کر زخم پر لگالیا کرتے اور وہ اکسیر ہو جاتی ۔ جانے آج اسی مٹی میں کس نے اتنا زہر بودیا ہے کہ خراش بھی آجائے تو بغیر ڈاکٹر سے سوئی لگا ئے نہ بنے ۔ ولادت کے پہلے سے جو انجکشن کا سلسلہ ہے توفی الحال تو بارہ برس تک مسلسل ٹیکہ اندازی ہے۔معلوم نہیں ہوا بدل گئی ‘ پانی بدل گیا یازمین بدل گئی ۔ ہمارے لڑکپن میں بچوں کو چیچک سے محفوظ رکھنے کے لئے صرف ایک ٹیکہ دیا جاتا اور وہ بھی حکومت کی جانب سے محکمہ بلدیہ کے زیر انتظام گھر گھر اپنا بیگ لئے گھومتے اور انہیں چیچک برارکہاجاتا تھا ۔ اسپرٹ لیمپ میں سوئی گرم کرلی ‘ پھر دوا لگا کر ان تین چھوٹی سوئیوں والے ا ٓلے کو دوا پر رکھ کر گھمادیا            جاتا ۔ ہلکا سا زخم آیا ‘ سو دو چاردن میں سارا مواد بھرآتا اور جو نہ آتا تو بھونے ہوئے چنوں کے خستہ دانے کھلائے جاتے کہ ٹیکا خوب پھول جائے اور مرض کے اندیشے سے نجات مل جائے ۔ یہ ٹیکوں کا نشان عمر بھر باقی رہ جاتا ۔ اس زمانے کے افراد کے بازوؤں پر دیکھئے تو آپ کو یہ نشان بھی مل جائیں گے۔ اب تک تو خیریت ہے لیکن اگلی نسل اگر اس جلد کو تراش کر میوزیم میں رکھ دے کہ کبھی ہمارے اجدادیوں بھی ٹیکہ لیا کرتے تھے تو یہ ناممکنات میں بھی نہیں ہے ۔
حیدرآباد میں سال اور مہینوں کی ترتیب بھی ہندوستان کے دیگر حصوں سے الگ تھی ۔ انگریزوں کے تسلط کے بعد تو عیسوی سن اور مہینے تو کم و بیش سارے ملک میں رواج پاگئے اور آج بھی جنوری تا دسمبر مروج ہیں ۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں فصلی سال سرکاری ہوا کرتا اور اس کیمہینے کچھ یوں تھے ۔ آذردے‘ بہمن‘ اسفندار ‘ فروردی ‘ اردی‘ بہشت ‘ خوردار ‘ تیر‘ امرداد ‘ شہر یور ‘ مہر ‘ آبان ۔ساتھ ہی ہجری سال کا بھی رواج تھا اور تاریخ ولادت و وفات ‘ سالگرہ ‘ تسمیہ خوانی ‘ شادی بیاہ ‘ نیک بد ‘ قمر در عقب ‘ تحت الشعاع سب ہجری  مہینوں کے حساب ہی سے ہوتا ۔اکثر اسلامی طور طریقے ہندو مسلمان سبھی میں یکساں رواج پاگئے ۔ مثلاً سالگرہ اور تسمیہ خوانی کا بھی اکثر کا ئستھ گھرانوں میں رواج تھا۔ رائے محبوب نارائن کے خاندان میں بھی اس کا چلن رہا تو مہاراجہ کشن پرشاد کی ڈیوڑھی میں تو اکثر رسوم رواج پاگئے ۔ چنانچہ سہ شنبہ کو جسے عرف عام میں منگل کہا جاتا ہے بال ترشوانا متروک تھا۔ چنانچہ آج بھی حیدرآباد کے قدیم محلوں میں یہ رواج اب بھی باقی ہے کہ کوئی نائی اس دن اپنی دوکان نہیں کھولتا ‘ بلکہ بال تراشنا تو کیا گھر میں ناخن تک نہیں تراشے جاتے ۔ دنوں کے ساتھ ساتھ مہینوں کا بھی خیال رکھا جاتا۔اسلامی سا ل کاآغاز ہی محرم سے ہوتا ہے اور اختتام ذوالحجہ پر لیکن جس طرح نئے سال کی خوشی منانے کا رواج ہر مذہب میں رہا ہے حیدرآباد میں یہ رواج کبھی نہیں رہا۔ مسلمان تو بہرحال مسلمان ہی تھے لیکن  اہل حیدرآباد سب کے سب اسے غم کا مہینہ سمجھتے تھے۔ پورے ماہ محرم میں بلا تفریق مسلک شادی بیاہ ‘ گلپوشی‘ تقریب مسرت کا کوئی تصور بھی نہیں تھا اور آج بھی روایتوں کے امین گھرانوں میں یہی طریقہ مروج ہے۔ شہر کی ہوا تو یوں بھی بدلی بدلی سی ہے لیکن وہ گاؤں جو ابھی گاؤں ہیں ‘ اس میں یہ تہذیب اب بھی بلا امتیاز مذہب و مسلک موجود ہے۔ ایرپورٹ کے حدود میں اگر ایک مسجد منہدم ہوئی ہے تو مامڑ پلی کا عاشورہ خانہ بھی منہدم ہوا ہے ‘ اس کی بھی وقف اراضی ایر پورٹ میں ضم ہو گئی ‘ لیکن کون سنتا ہے فغان درویش۔ ایک مامڑپلی پر کیا موقوف ہے ۔ ابراہیم پٹنم کھٹکیسر ‘ کیسرا ‘ سنکیسر‘سرونگر کس دیہات اور کس گاؤں میں عاشور خانے نہیں تھے۔ میرے ایک دوست جو چنچولی سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے بتایا کہ جب شب عاشور علم اٹھتے تو گاؤں کی تمام عورتیں الاؤجلاکر اس کے اطراف زاری کیا کرتیں اور رسولکے نواسے کے غم میں نوحہ کناں ہوتیں۔
چھ محرم کو بچوں کو سبز لباس پہنا کر حضرت امام حسین کا فقیر بنا کر فقیری کیا کرتیں تو کر بلا کے پیا سے بچوں کی یاد کو شربت بھی پلایا کرتیں۔ ان میں سے کسی عاشور خانے کا متولی شیعہ نہیں تھا۔ اس لئے کہ حضرت امام حسین فقط کسی مخصوص فرقہ یا طبقے کے امام نہیں ‘ بلکہ سارے عالم انسانیت کے امام ہیں ۔دور کیوں جائیے۔ مولاعلی کا پہاڑہو کہ بی بی کا علم ‘ نعل مبارک ہوں یا حسینی علم حضرت قاسم کا عاشور خانہ ہو یا کیسرہ کے روئی کے علم ‘ سنکیسرکا عاشور خانہ ہو کہ مشیر آباد کے عاشور خانے کا متولی ‘ ان سب کا تعلق اہل سنت ہی سے تھا‘ لیکن احترام میں کوئی کمی نہ تھی۔ آج بھی جب بی بی کا علم واپس آتا ہے اور ہاتھی بھی سوگوار سا کھڑا رہتا ہے تو سناروں کی گلی کی ہندو عورتیں نہا دھوکر گیلے بالوں کے ساتھ ہاتھی کے پیردھلاتی ہیں اور چھوٹے بچوں کو دودھ کا شربت پلاتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارا تو اس مذہب سے کوئی تعلق نہیں ؟ تو وہ روکر کہتی ہیں سنا ہے ایک ماں کا بچہ اس کی گود سے پانی کے لئے باپ کے ہاتھوں پر گیا تھا‘ پر ظالموں نے اس کے گلے کو تیر سے چھیددیا ۔ ہماری مامتا ہم کو کھینچ کر یہاں لاتی ہے اوریہ رواج ہمارے خاندان میں صدیوں سے ہے ۔ خود بی بی کے علم کی چتر برداری کی خدمت سدرشن کے خاندان میں صدیوں سے جاری ہے ۔ عاشور کو سہ پہر کے بعد جگہ جگہ فاقہ شکنی کا اہتمام ہوتا۔ راستوں پر ڈیر ے لگا کر کربلا کے بھوکوں کی نیاز دلوائی جاتی ۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جو اسی حیدرآباد کی مٹی کی رواداری کی علامت ہے ۔
کبھی ساون کے مہینے میں برسات نہ ہوتی تو گاؤں سے عورتیں ایک مسل کے دونوں سروں پر خالی مٹی کے گھڑے چھیکے پرلٹکائے اپنے کندھوں پر اٹھائے اٹھائے گلی گلی آواز دیتی تھیں ۔ ’’ آشنا اوشناپانی ڈالو‘ بی بی فاطمہ پانی ڈالو ‘‘ تو دریچوں کی چلمنوں کے پیچھے سے سر پر آنچل ڈالے عورتیں دعا ء کے لئے ہاتھ اٹھا دیتیں کہ برسات کے لئے کر بلا کے پیاسوں کا واسطہ دیا جارہا ہیاوران کا یقین بھی دیکھئے کہ ابھی شام نہ ہوتی کہ جنوب سے تیتر کے پروںکے رنگ کی کوئی بدلی اٹھتی اورکچھ ہی دیر میں یوں گھٹا بن کر چھا جاتی اورجھوم کر برستی کہ زمین تو سیراب ہو جاتی ‘ لیکن برستی بارش کو دیکھ کر نہ جانے کیوں آنکھ بھر آتی۔
بی بی کا علم میرے لڑکپن میں الاوہ بی بی سے ہاتھی پر سوار نہیں ہوا کرتا ۔ نظام نے اس علم کے لئے جو ہاتھی وقف کیا تھا اس کا نام ’’ اقبال پیکر ‘‘ تھا ۔ وہ اتنا بلند و بالا تھا کہ یاقوت پورہ کے دروازے سے نہیں گزرسکتا تھا۔ علم وہاں تک پیدل لایا جاتا ۔ میری عمر اس وقت چار برس رہی ہوگی ۔ میں علم کے ساتھ ساتھ یاقوت پورہ ‘ اعتبار چوک ‘ کوٹلہ عالیجاہ ‘ چار مینار گلزار حوض ‘ قدم رسول ‘ منڈی میر عالم ‘    پرانی حویلی ‘ جہاں نظا م بہ نفس نفیس خود ڈھٹی پیش فرماتے اور نذر گزرانتے تھے پھر عزا خانہ زہرا میں بھی ڈھٹی اور نذر گزرانتے تھے۔ پیچھے پیچھے ہزاروں سوگوارابن الزہر اواو یلا کرتے ہوئے برہنہ سر برہنہ پا شریک جلوس رہتے ۔ دارالشفاء کے پولیس اسٹیشن پر کوتوال شہر علم کو سلامی پیش کرتا اور ڈھٹی و نذر گزر انتا ۔ ایک مرتبہ جب شری بھاسکر راؤ کو توال تھے انہوں نے خیر سگالی علامت کے طور پر سیاہ شیروانی اور چوڑھی دار پاجامہ زیب تن کر کے دارالشفاء پر ڈھٹی چڑھائی ۔ دوسرے دن میں نے اپنے مکتوب میں انہیں لکھا کہ اس شہر کی روایت ہے کہ کوتوال شہر کی سلامتی کے لئے نہ صرف ڈھٹی گزارنتا ہے بلکہ احتراماً اپنے یونیفارم میں سلامی پیش کرتا ہے ۔ آپ نے جو ڈھٹی پیش کی وہ بھاسکر راؤ کی تھی کوتوال کی نہیں تھی تو اس کی پابجائی میں 14محرم کو جب علم بر آمد کئے جاتے ہیں تاکہ اسے پھر سے محفوظ کردیاجائے تو بھاسکر راؤ نے یونیفارم میں نہ صرف سلامی دی ‘ بلکہ پھر سے ڈھٹی پیش کی ۔
جب ’’ اقبال پیکر ‘‘ ہاتھی بوڑھا ہو گیا تو نظام نے مہاراجہ میسور سے ہاتھی منتخب کرنے کی خواہش کی جس پر مہاراجہ میسور نے اپنے فیل خانہ کا سب سے بلند ہاتھی علم کی سواری کے لئے روانہ کر دیا اور اس کا نام ’’ فتح نشان ‘‘ رکھا گیا۔ اقبال پیکر کے ہونے تک یہ ہاتھی علم کا نشان لے کر آگیآگے چلتا تھا۔ اس وقت سے نشان کا ہاتھی محاورہ رواج پا گیا ۔ یہ سلسلہ شاید دو یا تین سال رہا ‘ اس کے بعد فتح نشان برسوں علم برداری کرتا رہا اور 70 کی دہائی کے آخر میں فوت ہو گیا۔ اس کے بعد نظام ٹرسٹ سے ایک ہتھنی لکھنو سے خریدی گئی ۔ ڈاکٹر ایم چناریڈی وزیر اعلیٰ تھے۔ ان کو بی بی کے علم سے نہ صرف عقیدت تھی بلکہ وہ  گلزار حوض کے پاس گردھاری لال بجرنگ پرشاد ‘ سورج بھان کے ساتھ ڈھٹی پیش کیا کرتے تھے۔ جب وہ آندھراپردیش کے وزیر اعلی ہوئے تب بھی انہوں نے یہ روایت ترک نہیں کی ۔ چنانچہ جب نظام ٹرسٹ نے ہاتھی خریدا تو ڈاکٹر ایم چناریڈی نے اسے حکومت کا فرض سمجھ کر اس کی پرورش و پرداخت کے لئے جی او جاری کیا جس کی رو سے یہ ہاتھی نہروزوالوجیکل پارک میں رکھا جانے لگا ۔ جب یہ ہاتھی مر گیاتو نواب کاظم نواز جنگ جو علی پاشاہ کے نام سے مشہور ہیںانہوں نے نظام ٹرسٹ سے ایک اور ہاتھی خرید نے کااہتمام کیا ۔ وہ شاید دور اندیشی میں آصف سابع سے بھی چار ہاتھ آگے تھے۔ انہوں نے میسور سے ایک حاملہ ہتھنی خریدی تاکہ اس کی نسل چلتی رہے اور پھر ہاتھی خرید نے کی نوبت ہی نہ آئے۔ لیکن حاملہ ہونے کی وجہ سے اس سال یہ ہتھنی خدمت نہ انجام دے سکی تو کھیل تماشے کے لئے جانور فراہم کرنے والے ایک شخص کو علی پاشاہ نے بحیثیت صدر نشین چارمینار بینک سے ہاتھی کے لئے قرض جاری کیا اوراس ہاتھی نے چند برس خدمت انجام دی ۔ جب یہ بھی چل بسا تو نظام ٹرسٹ کی اس ہتھنی کو استعمال کرنے کا خیال آیا۔ لیکن مہاوتوں نے بتلایا کہ یہ جنگل میں بار برداری کے لئے تربیت یافتہ ہے عوامی ہجوم میں کار آمد نہیں ۔ بہر نوع دو سال سے تروپتی کے مہاوت کے ذریعہ اسے وقتی طور پر پیروں میں زنجیر ڈال کر استعمال کیا جارہا ہے ۔
کانگریس کے بر سر اقتدار آنے کے بعد وزیراعلیٰ نے اچھے تربیت یافتہ ہاتھی کی خریدی کے لئے پانچ لاکھ روپے مختص کئے ۔ یہ رقم اضافہ بھی ہو سکتی ہے ۔لیکن مرکزی حکومت نے بینالریاست ہاتھیوں کی فروخت پر امتناع عائد کر رکھا ہے ۔ اس کے لئے مرکز سے استثناء بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت پس و پیش نہیں کرے گی ۔ یہ کام انجام پائے گا ۔ دیکھئے کون آگے بڑھتا ہے کہ یہ کام انجام پائے۔ عاشورکو عزاخانہ زہرا کے روبر سرینواس لا ہوٹی سیاہ شیروانی میں ملبوس ‘ برہنہ سر برہنہ یا جلوس میں شریک عزاداروں کو پانی پلانے میںمصروف رہتے اور بڑی عقیدت سے ڈھٹی گزرانتے ۔
ادھر بی بی کے علم کی شان کچھ اور تھی تو ادھر نعل مبارک کی شوکت اور کوئی من بھر وزنی علم جس میں امام حسین ؑکے خود اور بینی کا ٹکڑامحفوظ ہے اورہر سال صندل مالی کی وجہ سے اس کے حجم اور وزن میں کافی اضافہ ہو چکا ہے ۔ پتھر گٹی سے شب عاشور برآمد ہوتا ۔ اس کے متولی کے احتشام کی کیفیت یہ تھی کہ توال کو خاطر میں نہ لائے ۔ مہاراجہ کشن پرشاد اس علم پر باقاعدگی سے ڈھٹی چڑھایا کرتے اور نذر گزرانا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب علم ڈیوڑھی کے قریب پہنچا تو ڈیوڑھی کے خاد م کو اندر اطلاع دینے میں شاید کچھ دیر ہو گئی ۔  اتنی دیر میں علم چند لمحوں کے لئے رکا اور متولی نے مہاراجہ کوعلم کا منتظر نہ دیکھ کر اپنی کڑک دار آواز میں کہا ’’ یاعلی ‘‘ گویا یہ اشارہ تھا کہ علم آگے بڑھ جائے ۔ مہاراجہ برہنہ سر برہنہ پا برآمدہوئے تو دیکھاعلم آگے بڑھ چکا ہے ۔ لوگوں نے بڑھ کے متولی کو اطلاع دی کہ مہاراجہ ڈیوڑھی پر تشریف لاچکے ہیں اور علم کے منتظر ہیں ۔ متولی نے برجستہ کہا کہ  ’’مہاراجہ سے کہئے کہ اگلے سال کاانتظار کریں ‘‘ مہاراجہ پیادہ پا تیز تیز قدموں سے علم تک پہنچے ‘ ہاتھ جوڑ کرتا خیر کی معافی چاہی اور نذر گزران کر دیر تک ہاتھ جوڑے کھڑے رہے کہ خطامعاف ہو جائے ۔پھر تبر کات حاصل کر کے واپس لوٹے ۔چہرے پر سکون بھی تھا اطمینان بھی ۔
تمام شب گشت کے بعد نعل مبارک فجر سے کچھ پہلے راؤ رمبھا کی ڈیوڑھی کے روبرو کچھ دیر ایک حجر ے میں رکھ دیئے جاتے ۔ اتنی دیر میں علم بردار بھی تازہ دم ہو جاتے اس لئے اس عاشوخانہ کو خوابگاہ نعل صاحب کہا جاتا ہے۔ لیکن اب یہ علم صبح سات بجے کے قریب پہنچتے ہیں اور فوراً واپس ہو جاتے ہیں۔ علم صرف شیعہ گھروں ہی میں ایستادہ نہیں ہوتے بلکہ اہل طریقت میں بہت سے بزرگ گزرے ہیں ‘ جن کے ہاں علم ایستاد ہوا کرتے اور واقعات کر بلا بیان کئے جاتے ۔ اس کے علاوہ بعض گھرانوں کے عشرہ اول کی مجالس بہت مقبول تھیں۔ چنانچہ نواب تہورجنگ جن کی ڈیوڑھی منڈی میر عالم کے قریب واقع ہے اور حسینیہ نواب عنایت جنگ کے نام سے مشہور ہے ‘ اس میں میر انیسؔ نے بھی مرثیہ سنایا ہے ۔ جس زمانے میں میر انیسؔ حیدرآباد آئے تھے اس وقت تک گلبر گہ سے حیدرآباد تک ریلوئے لائن بحال نہیں ہوئی تھی ۔چنانچہ وہ گلبرگہ سے حیدرآباد بذریعہ شکرام تشریف لائے ۔ اہل حیدرآباد نے کبھی میرانیسؔ کو دیکھا نہ تھا ۔ اس زمانے میں اس ڈیوڑھی کے روبرو جہاں آج زہر ا نگر آباد ہے ایک میدان تھا۔ ہجوم کا عالم یہ تھا کہ تھالی پھینکوتو سروں پر   جائے ۔ ایک دو رباعیوں کے بعد سلام پڑھ کر جب انیسؔ نے مرثیہ شروع کیا کہ ’’ بخدافارس میدان تہور تھاحر ‘‘ تو مجمع پر سکتے کی کیفیت دیکھ کر انیسؔ نے کہا تھا ’’ ہائے لکھنو تجھے کہاں سے لاؤں ‘‘ لیکن 9محرم کو جب مرثیہ پیش کیا کہ ’’ جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے ‘‘ تو اس کے بینیہ حصے کے بعدکہرام سن کر میرا نیسؔ نے اپنے فرزندکو خط لکھا کہ میں نے زندگی میں انسانوں کو تو روتے دیکھا ‘ لیکن پہلی مرتبہ در و دیوار کو روتے دیکھا ہے ۔ نہیں معلوم تہور جنگ کا خلوص تھا کہ عنایت جنگ مرحوم کی وار فتہ محبت 9محرم کو اب تک رٹے رٹائے فقرے اور برسوں سے سنے ہوئے جملے سن کر بھی لوگ کربلا کے شہیدوں پر یوں گریہ کرتے ہیں کہ گویا وہ کیفیت اب بھی برقرار ہے ۔ پانی دیکھ کر پیاس یا د آجاتی تو ہاتھ سے آب خورہ چھوٹ جاتا کہ آخر کا ردریا ہار گیا ‘ پیاس جیت گئی ۔ رائے محبوب نارائن نے لکھا ۔ ’’ محرم بھی کیا محرم ہوتا ‘ ٹھنڈی سبیلیں گرم الاؤ ‘‘۔ر