تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات میں ناکام سات امیدوار ایم پیز منتخب

حیدرآباد، 25مئی. سات امیدوار جنہوں نے دسمبر2018میں تلنگانہ میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کیا تھا، 11اپریل کو ہوئے پہلے مرحلہ کے لوک سبھا انتخابات میں ایم پیز منتخب ہوگئے۔ تین مرتبہ کے رکن اسمبلی کشن ریڈی جو ریاستی بی جے پی کے سابق صدر بھی ہیں کو عنبرپیٹ اسمبلی حلقہ سے شکست کا سامنا کرناپڑ اتھاتاہم انہوں نے حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے کامیابی حاصل کرلی جس کی نمائندگی بنڈارودتاتریہ نے کی تھی۔کشن ریڈی نے ٹی آرایس کے اپنے قریبی حریف ٹی سائی کرن کو62,000 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی۔زعفرانی جماعت نے 3,84,780ووٹ حاصل کئے جبکہ32سالہ سائی کرن جو ٹی آرایس کے نوجوان لیڈر ہیں نے 3,22,666ووٹ حاصل کئے جبکہ کانگریس کے امیدوار انجن کماریادو جو 2004اور2009کے پارلیمانی انتخابات میں اس حلقہ سے منتخب ہوئے تھے،تیسرے مقام پر رہے۔2014کے انتخابات میں دتاتریہ نے ان کو شکست دی تھی۔
ایس باپو راو جنہوں نے کانگریس کے ٹکٹ پر بوتھ اسمبلی حلقہ سے 2018میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں شکست کھائی تھی، بی جے پی میں شامل ہوگئے اور عادل آباد لوک سبھا حلقہ سے ٹی آرایس کے ایم پی جی ناگیش کو 58,000ووٹوں سے شکست دی۔بی سنجے کمار جنہوں نے کریم نگر اسمبلی حلقہ سے 2014اور2018کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کے طورپر ناکام مقابلہ کیا تھا،حلقہ لوک سبھا کریم نگر سے ٹی آرایس کے سرکردہ لیڈر ونود کمار کو 89,000 ووٹوں سے شکست دی تاہم حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 118اسمبلی حلقوں میں ضمانت کی ضبطی کا سامنا کرناپڑا اور وہ صرف گوشہ محل اسمبلی حلقہ سے ہی کامیاب ہوپائی تھی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading