سبحان قریشی کی ڈسچارج عرضداشت پر چیف تفتیشی افسر سے جواب طلب’ 5 اکتوبر کو خصوصی عدالت میں مزید بحث ہوگی، گلزار اعظمی

0 0

ممبئی :17 ستمبر (ورق تازہ نیوز)دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار مسلم نوجوان عبدالسبحان قریشی( ممبئی ) کو مقدمہ سے ڈسچار ج کیئے جانے والی عرضداشت کی سماعت کے بعد دہلی میں واقع خصوصی عدالت نے چیف تفتیشی افسر (آئی او) سے جواب طلب کیا ہے اور مقدمہ کی اگلی سماعت یعنی کے ۵ اکتوبر کر عدالت میں حاضر ہوکر اپنے موقف کا اظہار کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت کردی،یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزار اعظمی نے آج ڈسچارج عرضداشت پر ہوئی بحث کے تعلق سے بتایا کہ خصوصی عدالت کے جج ستیش کمار اروڑا کے سامنے ملزم کے دفاع میں مشہور کریمنل وکیل ایم ایس خا ن نے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی ایجنسی NIAنے ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن چارج شیٹ میں تحقیقاتی دستہ ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہوکہ ملزم ممنوع تنظیم سیمی اور انڈین مجاہدین کا رکن ہے نیز وہ ماضی میں کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن نے عدالت کو بتایاکہ ملزم پر کھنڈوا، بھوپال ، احمد آباد ، ممبئی، دہلی ، پٹنہ ، بدھ گیا وغیرہ مقام پر ہونے والی دہشت گردانہ کاررائیوں میں ملوث ہونے کا الزام تحقیقاتی ایجنسی نے عائید کیا تھا لیکن چارج شیٹ میں ملزم کے خلاف ایسا کوئی بھی پختہ ثبوت موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ملزم واقعی میں ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا ۔ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ یہ بھی ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہیکہ ملزم سیمی اور انڈین مجاہدین جیسی ممنوع تنظیم کا متحرک رکن تھا اور اس نے دہشت گردانہ کاررائیوں میں مدد کرنے کے لیئے نوجوانوں کی ذہن سازی کی تھی ۔خصوصی جج ستیش کمار اروڑا نے ایڈوکیٹ ایم ایس خان کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف انویسٹی گیٹنگ افسر سے جواب طلب کیا ہے۔واضح رہے کہ عبدالسبحان قریشی کو دہلی پولس نے ۳۲ جنوری ۸۱۰۲ءکو گرفتار کیا تھا اور اس پر ملک بھر میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔