حقیقی تاریخ کو محفوظ کر کے نئی نسل کے حوالے کریں: نظام الدین شیخ

30

سولاپور(محمد مسلم کبیر) جد وجہد آزادی کی تاریخ کی حفاظت کرکے نئی نسل تک اصل تاریخ سے آگاہ کرتے ہوئے اُن کے سپرد کرنے کی فی زمانہ اشد لازمی ہو گیا ہے۔ اور اس امر کی ذمے داری ہم سب کو قبول کرنی چاہیے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے مؤرخ اور ملّی کونسل دہلی کے نائب معتمد نظام الدین شیخ نے کہا کہ ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ حقیقی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے بلکہ اصل تاریخ کو مسخ کر کے منظّم طریقے سے غلط تاریخ کی اشاعت کرکے عام کیا جا رہا ہے۔لہٰذہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی تاریخ کے تعلّق سے بیدار رہیں۔

بھارت کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کا کردار سنہرے الفاظ میں تحریر کرنے کے قابل ہے۔جد وجہد آزادی میں مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین کا بھی بہت اثر انداز کردار رہا ہے۔تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپنے اسلاف کے کارناموں سے ہم ہی نا بلد رہنے اور نظر انداز کرنے سے ہم اپنی نئی نسل کو صحیح تاریخ بتانے سے قاصر ہیں۔

” جب گلستان کو خوں کی ضرورت پڑی

سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی

باوجود اس کے کہتے ہیں اہل چمن

یہ چمن ہے ہمارا ، تمہارا نہیں "

اس شعر کو پیش کرتے ہوئے جناب نظام الدین شیخ نے کہا کہ افسوس ! ہمارے اسلاف کے جان اور مال کی بے انتہا قربانیوں کے باوجود ہماری طرف شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔”

کل سولاپور میں ورثہ فاؤنڈیشن کی جانب سے ” آزادی کا امرت مہوتسو ” کے تحت ” تحریک آزادی میں مسلمانوں کا کردار” کے عنوان پر ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں ملّی کونسل دہلی کے نائب معتمد اور معروف تاریخ داں شیخ نظام الدین بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔اس جلسے کی صدارت ایڈوکیٹ یو۔این بیریا نے کی۔ افتتاحی کلمات ورثہ فاؤنڈیشن کے معتمد اشفاق زید نے پیش کیا۔اقبال سید نے مہمانانِ خصوصی کا تعارف اور گلپوشی کی۔

جناب شیخ نظام الدین نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ راستوں، اسٹیشنز، اور شھروں کے نام بدلنے سے تاریخ تبدیل نہیں ہوتی بلکہ عام شہریوں میں نفاق اور بد دلی کا ماحول بنتا ہے۔تاہم اس بات کو کون محسوس کرتا ہے۔

اس موقع پر ورثہ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ای ۔جا تامبولی، نائب معتمد مظہر اللوڑی، خازن صمد پھولمالی، سابق معتمد محمد ایوب نلا مندو، جعفر بانگی ،وسیم شاباد، شفیع کیپٹن، وقار شیخ، محمد حسین بخشی، حاجی شمیم چاندا، سید صفدر،اور دیگر احباب موجود تھے۔معروف صحافی و ورثہ فاؤنڈیشن کے سابق معتمد جناب محمد ایوب نلا مندو کو ” کارنامہ حیات” ایوارڈ ملنے پر ایڈوکیٹ یو۔ین بیریا کے ہاتھوں خصوصی تہنیت پیش کی گئی۔
اپنے صدارتی خطبے میں ایڈوکیٹ یو۔ین بیریا نے تمام مقررین کا جائزہ پیش کرتے ہوئے تاریخی حقائق سے نئی نسل کو واقف کرانے پر زور دیا۔ جلسے کی کارروائی اشفاق سات خی نے چلائی۔ہدیہ تشکر جعفر بانگی نے پیش کیا۔