ممبئی: خواتین پر ہونے والے مظالم انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہیں۔ ان مجرمین اور بگڑی ہوئی ذہنیت کے لوگوں کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔ یہ نہ صرف میری ذاتی بلکہ پارٹی اور حکومت کے تمام لیڈروں کی بھی یہی رائے ہے۔ یہ باتیں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہیں ہیں۔
سنیل تٹکرے نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ہمارے سماج کے لیے ایک داغ ہیں۔ ایسے افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنا ضروری ہے۔ مگر ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں۔ جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی رائے کا حق ہے، اور ہم نے اپنی رائے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
شرد پوار کو زیڈ پلیس سیکوریٹی کے معاملے پر سنیل تٹکرے نے کہا کہ شرد پوار کو 30-35 سالوں تک ریاست کے وزیر اعلیٰ رہنے پر زیڈ پلس سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ جب بھی مرکزی حکومت زپڈ پلس سیکیورٹی فراہم کرتی ہے تو وہ ملک کی عظیم شخصیت کے لیے ہوتی ہے جیسے کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع۔ وہی سیکیورٹی گاندھی خاندان کو بھی فراہم کی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ وزارت داخلہ کے پاس کچھ انٹیلیجنس معلومات ہوں، اس لیے یہ سیکیورٹی فراہم کی گئی۔ شرد پوار صاحب کو ان سیکیورٹی انتظامات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، جیسا کہ سنجے راوت اور روہت پوار سمجھتے ہیں۔ وہ نہ صرف ریاست کے بلکہ پورے ملک کے لیڈر ہیں۔ جب وہ مختلف ریاستوں کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں یہ سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ریاست کی زیڈ پلس سیکیورٹی ریاست میں ہی رہتی ہے، اس لیے مرکزی حکومت کی سیکیورٹی اہم ہوتی ہے۔ آخر کار، یہ شرد پوار کا حق ہے کہ وہ اس سیکیورٹی کو قبول کریں یا نہیں۔ لیکن تنقید کرتے وقت فکری دیوالیہ پن دکھانا درست نہیں ہے۔ کانگریس کے دورِ حکومت میں ٹھاکرے خاندان کو سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی، تو اس وقت کانگریس پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے نگرانی کے لیے سیکیورٹی فراہم کی تھی، مناسب نہیں ہے۔
سنیل تٹکرے نے کہا کہ جب ’لاڈکی بہین یوجنا‘ شروع کی گئی تو پورے مہاراشٹر کی خواتین نے اس کا پرجوش استقبال کیا۔ اس یوجنا کے بارے میں پورے مہاراشٹر میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اور اجیت دادا پوار نے اس اسکیم کو بلا تعطل جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ مخالفین نے پہلے دن سے ہی اس اسکیم کی مخالفت کی ہے۔ اس پر مہاوکاس اگھاڑی کے رہنماؤں کو جواب دینا چاہیے کہ وہ اس اسکیم کے حق میں ہیں یا مخالفت میں۔ روہت پوار پر تنقید کرتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ انہوں نے جو یاترائیں نکالی تھیں، کیا وہ فضول خرچی تھی؟ راہل گاندھی کے پیدل یاترا کو جو غیرمعمولی ردعمل ملا، وہ بے مثال تھا۔ اس پدیاترا کا مقصد کیا تھا؟ اس پر مہاوکاس اگھاڑی کے رہنماؤں کو وضاحت کرنی چاہیے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی ‘جن سمان’ یاترا کو جو زبردست عوامی حمایت ملی ہے، اس سے خوفزدہ ہوکر سیاسی مخالفین اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔
