خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومت ناکام، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ استعفیٰ دیں

  • بدلاپور واقعہ پر بدعنوان مہایوتی حکومت کے خلاف کانگریس مہاوکاس اگھاڑی کی ریاست بھر میں خاموش احتجاجی تحریک

ممبئی: بدلاپور میں ہونے والا واقعہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا ہے۔ یہ اطلاع ملی ہے کہ ان دو کمسن بچیوں پر 15 دنوں سے زیادتی ہو رہی تھی۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں زیادتی کے واقعات ہو رہے ہیں، حکومت لڑکیوں اور خواتین کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کی کوئی گرفت نہیں رہی، جس کے نتیجے میں اس طرح کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اس کے لیے مکمل طور پر وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ذمہ دار ہیں، اس لیے دونوں کو استعفیٰ دینا چاہیے، یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

بدلاپور میں کمسن بچیوں پر ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مہاوکاس اگھاڑی نے مہایوتی حکومت کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا تھا، لیکن ممبئی ہائی کورٹ کے اس پر پابندی عائد کر دی۔ جس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے ریاست بھر میں سیاہ پٹیاں باندھ کر خاموش احتجاج کیا گیا۔ ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے، سی ڈبلیو سی رکن اور پردیش کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان، سابق وزیر جیتندر اوہاڑ، تھانے شہر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر وکرانت چوہان، تھانے دیہی ضلع کے صدر دیانند چورگھے سمیت سینکڑوں عہدیداروں اور کارکنان نے شدید بارش میں تھانے کے گاندھی چوک پر احتجاج میں حصہ لیا۔

اسمبلی میں کانگریس کے سینئر لیڈر بالا صاحب تھورات نے سنگم نیر میں احتجاج میں حصہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مہایوتی حکومت کے دور میں ریاست میں لا اینڈ آرڈر نام کی کوئی شئے باقی نہیں بچی ہے۔ مجرموں پر پولیس کا کوئی خوف نہیں رہا۔ حکومت کو عوام اور بہنوں کی حفاظت کی کوئی فکر نہیں ہے، صرف ریاست کو لوٹنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اپنی ماؤں اور بہنوں کی حفاظت کے لیے اس حکومت کو ہٹانا ضروری ہو گیا ہے۔

ناگپور میں اپوزیشن لیڈر وجے ویڈیٹی وار، ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے اور ایم ایل اے ابھیجیت ونجاری نے سنویدھان چوک پر خاموش احتجاج کیا۔ اس موقع پر ویڈیٹی وار نے کہا کہ ریاست میں خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور جنوری سے اب تک 2141 خواتین اور بچیوں پر ظلم ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کے اضلاع میں ہی قانون و انتظامیہ کی حالت بدتر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلاپور واقعہ کو دبانے کی کوشش حکومت کی جانب سے کی گئی، لیکن ہائی کورٹ نے مہایوتی حکومت کو پھٹکار لگائی اور عوام کے احتجاج کے بعد کارروائی شروع ہوئی ہے۔ اس بگڑی ہوئی، چور، لٹیری اور ڈاکو حکومت کی مذمت کے لیے اور مجرموں کو جلد سے جلد پھانسی دیے جانے کے لیے یہ احتجاج ریاست بھر میں کیا جا رہا ہے۔

قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر ستیج عرف بَنٹی پاٹل کی قیادت میں رکن پارلیمنٹ شریمنت شاہو مہاراج سمیت عہدیداروں اور کارکنوں نے کولہاپور میں خاموش احتجاج کیا۔ اس خاموش احتجاج میں ایم ایل اے جے شری پاٹل، ایم ایل اے رتوراج پاٹل، ایم ایل اے راجو بابا اَوَلے، ایم ایل اے جینت اسگاوںکر سمیت مہاوکاس اگھاڑی کے رہنما اور عہدیدار شریک ہوئے۔ امراؤتی میں سابق وزیر یشودھا ٹھاکر، ایم پی بلونت وانکھڑے نے احتجاج میں حصہ لے کر حکومت کی مذمت کی۔ ناشک میں شہر کانگریس کے صدر ایڈووکیٹ آکاش چھازے اور ایم پی ڈاکٹر شو بھا تائی بچھاؤ نے حصہ لیا۔ ممبئی کے ناگپاڑہ جنکشن پر ممبئی کانگریس کی صدر ایم پی ورشا گائیکواڑ کی قیادت میں احتجاج کیا گیا۔ ریاستی کانگریس کے دفتر تلک بھون دادر میں ہوئے احتجاج میں ایم ایل اے بھائی جگتاپ، ریاستی کانگریس کے خزانچی ڈاکٹر امرجیت سنگھ منہاس، ریاستی جنرل سیکرٹری مناف حکیم، راجن بھوسلے، سیکرٹری شرینگ برکے سمیت دیگر عہدیدار شریک ہوئے۔

پونے میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار کے ساتھ ریاستی کانگریس کے نائب صدر موہن جوشی سمیت کانگریس عہدیداروں اور کارکنوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ شیوسینا بھون کے سامنے سابق وزیر اعلیٰ اور شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں احتجاج کیا گیا اور حکومت کی مذمت کی گئی۔ چھترپتی سمبھا جی نگر میں قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر امبا داس دانوے، ایم پی کلیان کالے، سمبھا جی نگر کانگریس کے صدر یوسف شیخ نے احتجاج میں حصہ لیا۔ ریاست کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈروں، عہدیداروں اور کارکنوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر حکومت کی مذمت کی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading