ایم وی اے حکومت میں اجیت دادا کو وزارت خزانہ دینے کا سوال پہلے ماتوشری میں پوچھیں

شولاپور کا معاملہ این سی پی کے لیے ختم ہو چکا ہے، مہایوتی حکومت پر عوام کا اعتماد برقرار ہے: آنند پرانجپے

ممبئی: این سی پی کے ترجمان آنند پرانجپے نے واضح کیا ہے کہ ریاست کی سیاست میں اجیت دادا پوار پر تنقید کے بغیر مخالفین کو شہرت نہیں ملتی اور اسی لیے وہ بار بار غیرضروری الزامات عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی شرد کولی نامی لیڈر کو اجیت دادا پر اعتراض کرنا ہے تو پہلے ماتوشری جا کر اس وقت کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے پوچھیں کہ ایم وی اے حکومت کے دوران انہوں نے اجیت پوار کو وزارت خزانہ کیوں دیا تھا، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ کورونا کے دور میں ادھو ٹھاکرے نے خود اجیت پوار کے مالی نظم و نسق کی کھل کر تعریف کی تھی۔

پارٹی دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرانجپے نے کہا کہ شولاپور کا معاملہ این سی پی کے لیے ختم ہوچکا ہے۔ اجیت دادا پوار نے خود وضاحت کی ہے کہ انہوں نے شولاپور میں کبھی غیرقانونی مداخلت نہیں کی، بلکہ صرف امن و قانون قائم رکھنے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے پولیس اور بالخصوص خواتین افسران کے احترام کو ترجیح دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر پارٹی مزید کچھ نہیں کہنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ دسہرہ جلسے میں ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے ایک ساتھ آئیں گے یا نہیں یہ فیصلہ دونوں بھائیوں کو کرنا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ مہایوتی حکومت پر عوام نے اعتماد جتایا ہے اور اسمبلی انتخابات میں وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیراعلیٰ اجیت دادا پوار اور نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں عوام نے غیرمعمولی کامیابی دی ہے، اس لیے عوام کی حمایت مہایوتی کے ساتھ ہے۔

آنند پرانجپے نے کہا کہ مہایوتی کی حکومت میں لا ٔ اینڈ آرڈر پوری طرح قائم ہے اور کسی واقعے میں جو بھی مجرم ہوگا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ روہت پوار کے ہر سوال کا جواب دینا لازمی نہیں، مگر جہاں تحقیقات کی ضرورت ہوگی وہاں پولیس اور حکومت سخت ایکشن لے گی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسمبلی انتخابات میں بری طرح شکست کے بعد مخالفین اب تک مایوسی سے باہر نہیں نکلے ہیں، اسی لیے وہ الیکشن کمیشن پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں جبکہ لوک سبھا انتخابات کے وقت انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ انجلی دمانیا کے خط کے تعلق سے پرانجے نے کہا کہ یہ جمہوریت ہے، ہر کسی کو اپنی بات رکھنے کا حق ہے اور یقیناً وزیراعلیٰ اور ان کا محکمہ داخلہ اس پر غور کریں گے۔ او بی سی سوال پر بھی انہوں نے کہا کہ مہایوتی حکومت حساس ہے اور اس مقصد کے لیے ایک کابینی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں تینوں جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں تاکہ کسی طرح کی ناانصافی نہ ہو۔

NCP Urdu News 7 Sep 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading