ممبئی: بھانڈوپ کا لاؤداسپیکر آج دہلی سے ایک ذہنی مریض کی طرح چیختا ہوا سنائی دیا، لیکن اسے چاہیے کہ پارٹی کے قومی صدر اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا پوار اور قومی کارگزار صدر و رکن پارلیمنٹ پرفل پٹیل کے بارے میں محتاط ہو کر بات کرے، ورنہ مستقبل میں اس کے لیے تھانے کے مینٹل اسپتال میں ایک بیڈ بُک کر دیا جائے گا۔ یہ سخت انتباہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے چیف ترجمان آنند پرانجے نے سنجے راؤت کو دیا ہے۔
آنند پرانجپے نے کہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی کارگزار صدر پرفل پٹیل نے جمعرات کو وقف بورڈ کے بل پر تقریر کرتے ہوئے شیو سینا کے اس شاندار ہندو توا کی یاد دلائی جو آنجہانی بالاصاحب ٹھاکرے کے دور میں تھا۔ ان کی تقریر نے اس قدر چبھن پیدا کی کہ آج یہ لاؤڈ اسپیکر دہلی سے انتہائی نچلی سطح پر آ کر بجنے لگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیو سینا کا ہندو توا ہمیشہ ’گرو سے کہو ہم ہندو ہیں‘ کے نعرے پر قائم رہا ہے۔ آنجہانی بالاصاحب ٹھاکرے نے بابری مسجد کے انہدام کے بعد کہا تھا کہ ’اگر میری شیو سینا کے کارکنوں نے مسجد گرائی ہے تو مجھے ان پر فخر ہے۔‘ 1992-93 کے فسادات میں شیو سینا کے کردار کی یاد دہانی کرانے کے بعد، اب جو شیو سینا سنجے راؤت نے کانگریس اور مہا وکاس اگھاڑی کے قدموں میں ڈال دی ہے، اس پر وہ برہم ہو رہے ہیں۔
آنند پرانجے نے کہا کہ سنجے راؤت نے جس قسم کی زبان استعمال کی، وہی زبان ہم بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ سنجے راوت کانگریس کے سرٹیفائیڈ ’’۔۔۔‘‘ ہیں یا وہ سلور اوک کے سرٹیفائیڈ ’’۔۔۔‘‘ ہیں، تو کیسا رہے گا؟ لیکن ہمیں ایسے الفاظ کے استعمال کی تربیت نہیں دی گئی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں شیو سینا کی مایوس کن تقاریر دراصل شکست کی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ ہیں۔ روزانہ شیو سینا کے کارکن پارٹی چھوڑ رہے ہیں، جس سے ادھو ٹھاکرے کی قیادت پر عدم اعتماد بڑھتا جا رہا ہے۔ بہتر ہوگا کہ سنجے راؤت اس پر غور کریں۔
آنند پرانجے نے سنجے راؤت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ پترہ چال بدعنوانی کی لاٹری نکلنے والی ہے، اور جس شخص کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مقدمے میں 8-9 مہینے جیل میں گزارنے پڑے، اسے بولنے سے پہلے محتاط رہنا چاہیے۔ الزامات لگانا بہت آسان ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پرفل پٹیل کے خلاف کبھی کوئی تحقیقات بھی نہیں ہوئیں، جبکہ سنجے راوت خود ای ڈی کی جیل یاترا کر چکے ہیں اور ابھی ضمانت پر باہر ہیں۔ اس لیے وہ بے بنیاد الزامات لگانے سے باز رہیں۔