پونے میٹرو مرحلہ دوم میں دو نئے اسٹیشنوں کی تعمیر کی منظوری، 683 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کی منظوری
ممبئی: مہاراشٹر میں ریلوے اور میٹرو سے متعلق تین اہم فیصلے ریاستی حکومت کی منظوری کے بعد عملی شکل اختیار کرنے جا رہے ہیں جن سے نہ صرف بیڑ جیسے پسماندہ ضلع کو براہ راست ریلوے نقشے پر جگہ ملے گی بلکہ پونے اور ممبئی کے درمیان بڑھتے ہوئے ریلوے ٹریفک کا بوجھ کم ہوگا اور پونے شہر کے جنوبی حصے کو جدید میٹرو سہولت میسر آئے گی۔ بیڑ سے اہلیانگر کے درمیان ریلوے سروس کا آغاز مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن کے موقع پر 17 ستمبر کو کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی کابینہ نے پونے–لوناولا ریلوے کی تیسری اور چوتھی لائن کے لیے مالیاتی شراکت داری کی منظوری دی ہے جبکہ پونے میٹرو مرحلہ دوم میں بالاجی نگر اور ببویواڑی میں دو نئے اسٹیشن بنانے کے لیے 683 کروڑ روپے کے اضافی بجٹ کو بھی منظوری مل گئی ہے۔ یہ تمام فیصلے ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی سربراہی اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔
اجیت پوار کی صدارت میں سہیا دری گیسٹ ہاؤس ممبئی میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں یہ طے پایا کہ بیڑ–اہلیانگر ریلوے سروس کا افتتاح 17 ستمبر کو کیا جائے گا اور اس دن پہلی ریل کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں بیڑ–پرلی ریلوے منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے اور زیر التوا کاموں کو تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے سینئر افسران موجود تھے جن میں مہا پاریشرن کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو کمار، محکمہ تعمیرات عامہ کے سکریٹری دیشپوتے، محکمہ مالیات کی سکریٹری شیلا اے، نائب وزیراعلیٰ کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش دیشمکھ، محکمہ ٹرانسپورٹ کے ڈپٹی سکریٹری راجندر ہولکر، ریلوے کے چیف الیکٹریکل انجینئر ونییت کمار، ریلوے پونے ڈویژن کے ایڈیشنل ڈویژنل منیجر پدم سنگھ جادھو، چیف پیسنجر ٹرانسپورٹ منیجر ملند ہروے، چیف پبلک ریلیشن آفیسر سوپنل نیلا اور چیف انجینئر پرشانت بھیگڑے شامل تھے۔ اسی دوران چھترپتی سنبھاجی نگر کے ڈویژنل کمشنر جیتندر پاپلکر، بیڑ کے کلکٹر ویویک جانسن اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نوینیت کووت نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اس اجلاس میں اجیت پوار نے ہدایت دی کہ بیڑ ضلع انتظامیہ فوری طور پر بیڑ–پرلی ریلوے لائن کے لیے زیر التوا زمین کے حصول کے معاملات نمٹائے اور مطلوبہ زمین فراہم کرے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے طے شدہ مالی حصہ فوری ادا کیا جائے اور بجٹ میں منظور شدہ 300 کروڑ روپے میں سے 150 کروڑ روپے فوراً فراہم کیے جائیں جبکہ باقی 150 کروڑ کی فراہمی کا بھی انتظام کیا جائے۔ ریلوے کو اب تک فراہم کی گئی رقم کے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ بھی جلد از جلد پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی کے ساتھ پھلٹن–لونند ریلوے منصوبہ شروع کرنے اور بارامتی ریلوے اسٹیشن کے کام کی رفتار بڑھانے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ جلد از جلد جدید سہولیات سے آراستہ ریلوے اسٹیشن عوام کے لیے دستیاب ہو۔
اسی دوران ریاستی کابینہ نے ایک اور اہم فیصلہ لیتے ہوئے پونے–لوناولا ریلوے لائن پر تیسری اور چوتھی لائن کے منصوبے کے لیے ریاستی حکومت کی مالی شراکت داری کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کو ممبئی ریلوے وکاس مہا منڈل نے پیش کیا تھا جس کی کل لاگت تقریباً 5,100 کروڑ روپے ہے۔ اس میں زمین کے حصول کا خرچ بھی شامل ہے۔ مرکز اور ریاست کے درمیان اس منصوبے میں بھی 50:50 کے تناسب سے مالی حصہ داری ہوگی۔ ریاستی حکومت کا حصہ 2,550 کروڑ روپے طے کیا گیا ہے جس میں پونے میونسپل کارپوریشن اور پمپری-چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کا 20-20 فیصد یعنی 510-510 کروڑ روپے، جبکہ پی ایم آر ڈی اے کا 30 فیصد یعنی 765 کروڑ روپے کا حصہ ہوگا۔ باقی رقم ریاستی حکومت برداشت کرے گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف پونے–لوناولا مضافاتی ریل پر بڑھتے دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ پونے اور ممبئی کے درمیان رابطہ مزید آسان اور تیز تر ہوگا۔
اسی کے ساتھ ریاستی کابینہ نے پونے میٹرو منصوبے کے مرحلہ دوم میں سوارگیٹ سے کاترج کوریڈور پر بالاجی نگر اور ببویواڑی دو نئے میٹرو اسٹیشنوں کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ان کے لیے 683.11 کروڑ روپے کے اضافی بجٹ کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس میں پونے میونسپل کارپوریشن کا حصہ 227.42 کروڑ روپے، یورپی انویسٹمنٹ بینک کا دو طرفہ قرض 341.13 کروڑ روپے، ریاستی حکومت کی طرف سے ٹیکس کے لیے 45.75 کروڑ روپے کا سیکنڈری قرض اور اضافی 68.81 کروڑ روپے کا بلاسود سیکنڈری قرض شامل ہے۔