ایم وی اے کے دور کے ترقیاتی کاموں کے روک پر ہائی کورٹ کااسٹے
شندے فڈنویس حکومت کو جھٹکا ہے: مہیش تپاسے
ممبئی:مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے دور کے ترقیاتی کاموں پر شندے وفڈنویس حکومت کے ذریعے روک لگانے کے فیصلے پر ہائی کورٹ نے عبوری روک لگادی ہے جو شندے وفڈنویس حکومت کے لیے ایک زبردست جھٹکا ہے۔ یہ باتیں این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کہی ہیں۔
تپاسے نے کہا کہ ہم یہ بات پہلے سے کہتے آرہے ہیں کہ شندے-فڈنویس حکومت کا کام کاج شروع سے ہی غیرمنصوبہ بند ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے تمام فیصلوں اور ترقیاتی کاموں کو منسوخ کرتی جارہی ہے۔لیکن ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے سے یہ ثابت کردیا ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا فیصلہ درست اور ریاست کی ترقی کے لیے ضروری تھا۔ مہیش تپاسے نے کہا کہ شندے- فڈنویس حکومت پانچ سوافسران کی پانچ ماہ سے تقرری نہیں کررہی ہے اور انہیں گھربیٹھا کر تنخواہ دے رہی ہے۔ یہ عوام کے پیسوں کا سراسر زیاں ہے لیکن حکومت کو شاید اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ اس کے اہنکار نے اسے بے حس بھی بنادیا ہے۔مختلف محکموں میں 500 افسران تقرریوں کے منتظر ہیں۔ اگر انہیں فوری تقرریاں دی جاتیں تو وہ عوامی معاملات پر توجہ دیتے، لیکن ایسے فیصلے لینے کے بجائے یہ حکومت جذباتی مسائل پر سیاست کرنے میں مصروف ہے۔