بلقیس بانوکے مجرمین کو رہا ئی تشویشناک: شردپوار

258
  • ایم ایل ایز توڑنا، ای ڈی جیسی ایجنسی کے استعمال سے اقتدارپرقبضہ کرنے کی سنگین تصویرآج ملک کے سامنے ہے
  • وزیراعظم نریندرمودی وبی جے پی پر شردپوار کی سخت تنقید

تھانے:وزیراعظم نریندرمودی نے 15/ اگست کوخواتین aکی عزت واحترام کی جو باتیں کہیں اسے ہم نے غور سے سنا۔ جس ریاست سے نریندر مودی کا تعلق ہے اس کی حکومت نے ایک خاتون کے ساتھ درندگی کا مظاہر کرنے والے مجرمین کو رہا کردیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے اپنی تقریر میں خواتین کی عزت واحترام کی جوباتیں کہیں اس کا عملی ثبوت گجرات حکومت نے بلقیس بانو کے مجرمین کو رہا کرکے دیدیاہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعظم مودی اور بی جے پی پر یہ سخت تنقید آج یہاں این سی پی کے قومی سربراہ شردپوار نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔

شردپوار نے ملک میں خواتین پر مظالم کی تعداد میں اضافہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گجرات کی بی جے پی حکومت نے بلقیس بانو کیس کے مجرمین کو رہا کر کے اور ان کی سرعام ستائش کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کے یہاں عورتوں کا کیا احترام ہے۔ عدالت نے ان مجرمین کو عمرقید کی سزاسنائی تھی لیکن گجرات حکومت نے انہیں رہا کردیا۔ یہ بی جے پی کی سوچ کا مظہر ہے۔

شردپوار نے کہا کہ مرکزی حکومت اس بات کی مسلسل کوشش کرتی رہتی ہے کہ غیربی جے پی لیڈران کے خلاف کس طرح سی بی آئی، ای ڈی ودیگر ایجنسیوں کو لگایا جائے۔ یہ کوشش ایسا نہیں ہے کہ صرف اپنی ہی ریاست میں ہورہی ہے بلکہ گجرات میں بھی ایسی ہی شکایتیں ہیں اور جھارکھنڈ میں بھی یہی ہورہا ہے۔جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے ان تمام ریاستوں میں جمہوری طریقے سے منتخب حکومتوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی یہ کوشش ہے۔

پوار نے کہا کہ آج کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت ہے لیکن پہلے وہاں بی جے پی کی حکومت نہیں تھی۔ بی جے پی نے کچھ لوگوں کو توڑ کر وہاں اپنی حکومت بنالی۔ مہاراشٹر میں شیو سینا کے ایک حصے کو توڑ کرحکومت گرادی گئی۔مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ کی حکومت گرائی گئی اوروہاں بی ج پی کی حکومت بنائی گئی۔ یہ تصویر کئی جگہوں پر نظر آرہی ہے۔ شرد پوار نے یہ بھی الزام لگایا کہ اگر عوام نے اقتدار نہیں دیا تو بی جے پی عوام کے ذریعہ منتخب ارکان کو توڑ کر اور ان کو ایک طرف رکھ کر اقتدار حاصل کر لے گی۔انہیں یقین نہیں ہے کہ عوام انہیں دوبارہ منتخب کریں گے۔

شردپوار نے کہا کہ کیرالہ میں بی جے پی نہیں ہے۔ تمل ناڈو میں بی جے پی نہیں ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت نہیں تھی، آندھرا پردیش میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت نہیں تھی۔ گجرات اور مدھیہ پردیش کو چھوڑ کر بی جے پی کی حکومت نہیں تھی۔ اڑیسہ میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ جھارکھنڈ، مغربی بنگال میں نہیں۔ اگر ہم ملک کے منظر نامے کو دیکھیں تو گجرات اور آسام جیسی چند ریاستوں کو چھوڑ کر بی جے پی کے پاس اقتدار نہیں تھا، عوام نے انہیں منتخب نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پارٹی کے بارے میں لوگوں کی رائے دن بہ دن بدل رہی ہے۔ بی جے پی کو جب لوگ اقتدار نہیں سونپ رہے ہیں تو وہ منتخب لوگوں کو توڑنے، ایجنسیوں کا غلط استعمال کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔دوسری طرف سیاسی رہنماؤں کو کسی نہ کسی وجہ سے ہراساں کرنے کا کام جاری ہے۔ مہاراشٹر میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ انل دیشمکھ پر 110 چھاپے مارے گئے۔ یہی بات نواب ملک اور سنجے راوت کے بارے میں بھی کی گئی۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کا ایسا استعمال ہو رہا ہے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ شرد پوار نے یہ بھی وضاحت کی کہ ہم غیربی جے پی کے خلاف رائے عامہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس پریس کانفرنس میں سابق وزیر جتیندر اواد، ایم ایل اے ششی کانت شنڈے نے شرکت کی۔