NCP Urdu News 29 April 25

ریاستی وَقف بورڈ کو بااختیار اور مستحکم بنانے کیلئے حکومت سنجیدہ

مسلمانوں کے تعلیمی، طبی اور اقتصادی مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار

اجلاس میں وَقف جائیدادوں کے تحفظ، فنڈز کے شفاف استعمال، تعلیمی اداروں کے قیام، نوجوانوں کی تربیت اور اقلیتوں کی ترقی سے متعلق اہم فیصلے

ممبئی: مہاراشٹر کی اقلیتی برادری بالخصوص مسلم طبقے کے لیے ایک امید افزا پیغام دیتے ہوئے ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کہا ہے کہ ریاستی وَقف بورڈ کو درپیش تمام تر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور بورڈ کو ایک فعال، بااختیار اور شفاف ادارہ بنایا جائے گا تاکہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے عمل میں وَقف ادارے کا حقیقی کردار اُجاگر ہو۔

منترالیہ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں مسلم اقلیتوں کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی، وَقف جائیدادوں کے تحفظ اور ان کے بہتر استعمال سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کی، جبکہ وزیر برائے اقلیتی امور و اوقاف دتاتریہ بھرنے، وزیر برائے طبی تعلیم حسن مُشرف، اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔

نائب وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وَقف املاک مسلمانوں کی امانت ہیں اور ان کا تحفظ، ترقی اور شفاف استعمال حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں وَقف بورڈ کی زیرملکیت جو عمارات زیرِ تعمیر ہیں، انہیں نہایت معیاری انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ یہ ادارے آئندہ کئی دہائیوں تک مسلمانوں کی خدمت کر سکیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ عمارات صرف پتھر اور اینٹ سے نہیں بلکہ مسلم قوم کی ترقی کے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اجلاس میں اقلیتی برادری کو معیاری تعلیم، جدید صحت سہولیات، اور روزگار سے مربوط تربیت فراہم کرنے کے لیے مربوط پالیسی پر گفتگو کی گئی۔ اجیت پوار نے کہا کہ مسلمانوں کو قومی دھارے میں باعزت شراکت دار بنانا حکومت کا نصب العین ہے۔ مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے تعلیم، اسکالرشپ، پیشہ ورانہ تربیت اور کاروباری ترقی کی اسکیمات کو تیز رفتاری سے نافذ کیا جائے گا تاکہ مسلم نوجوانوں کو بہتر مستقبل مل سکے۔

نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ ہنر مندی، تربیت اور روزگار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ایسے تربیتی مراکز اور تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جہاں سے اقلیتی طبقے کو براہِ راست فائدہ ہو۔ یہ ادارے صرف اعداد و شمار کے لیے نہیں، بلکہ عملی ترقی کا ذریعہ بنیں۔

اجلاس میں ریاستی وَقف بورڈ کے کام کاج میں شفافیت، فنڈز کے بروقت اجرا، اور فیصلہ سازی میں خودمختاری پر بھی زور دیا گیا۔ اجیت پوار نے واضح کیا کہ وَقف بورڈ کو ایک خودمختار، باصلاحیت اور جوابدہ ادارہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ مسلم سماج کی رہنمائی اور خدمت کا فریضہ بہتر انداز میں انجام دے سکے۔

اجلاس میں چھترپتی سنبھاجی نگر وَقف بورڈ کے صدر سمیر قاضی، چیف ایگزیکٹیو جنید سید سمیت دیگر مسلم افسران کی شمولیت کو حکومت نے اس امر کی علامت قرار دیا کہ مسلمانوں کی نمائندگی محض علامتی نہیں بلکہ عملی سطح پر ہو رہی ہے۔ یہ پیش رفت مسلم قیادت کو اعتماد فراہم کرے گی کہ ان کی آواز حکومت کے ایوانوں میں سنی جا رہی ہے۔

اجیت پوار نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت مسلمانوں کو ایک باوقار، خوشحال اور محفوظ زندگی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ریاست میں اقلیتوں کے خلاف کسی بھی امتیازی رویے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم سب کو مل کر ایک ایسا مہاراشٹر بنانا ہے جہاں ہر مذہب، ہر قوم اور ہر طبقے کو برابری کے مواقع حاصل ہوں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading