ہمارا تعمیرکردہ سیاسی ڈھانچہ کبھی متزلزل نہیں ہوگا: شردپوار

241

صاحبِ اقتدارلوگوں کو مصیبت زدہ عوام کے درد سے آگاہی ہونی چاہئے لیکن ان کی ترجیحات کچھ اور ہوگئی ہیں

ناسک: ریاست میں وسط مدتی انتخابات کا امکان اظہار نہایت شدت سے کیا جارہا ہے، ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو ہم اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر انتخابات نہیں بھی ہوئے توبھی ریاست کے سیاسی حالات پرہماری گہری نظر ہے۔ اگر کچھ کمی یا کوتاہیاں سامنے آئیں گی تو ہم عین موقع پر حالات کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ ہم نے جو سیاسی ڈھانچہ تعمیر کیا ہے وہ کبھی متزلزل نہیں ہوگا۔ اس یقین کا اظہار آج یہاں این سی پی کے سربراہ شردپوار نے اپنے ناسک دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

شردپوار نے کہا کہ جب لوگوں کو اپنی حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملے گا تو یہ تصویر یقینی طور پر تبدیل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جو آج برسرِ اقتدار ہیں انہیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ان کی ترجیحات کیا ہوں۔ انہیں مصیبت زدہ لوگوں کے درد سے آگاہی حاصل کرنی چاہئے لیکن آج کے حکمرانوں کی ترجیحات دوسری ہیں۔شردپوار نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اجیت پوار ان علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں جہاں زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور لوگ پریشانی کے شکار ہیں۔ یہ دورہ استقبال اور مبارکباد کے لیے نہیں ہے۔ اس سے کسی کو کیا نتیجہ اخذ کرنا ہے، یہ اس کا اپنامعاملہ ہے۔

اوبی سی ریزرویشن کے بارے میں شردپوار نے کہاکہ جب تک اس فیصلے کی تفصیلات سامنے نہ آجائیں اس پر بات کرنا مناسب نہیں، لیکن جو باتیں سامنے آئی ہیں ان کو پیشِ نظر یہ کہاجاسکتا ہے کہ صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔ شرد پوار نے خدشہ ظاہر کیا کہ او بی سی جو ایک بڑا طبقہ ہے، اقتدار اور انتظامیہ سے باہر پھینک دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات کے تعلق سے واضح تصویر سامنے آنے کی ضرورت ہے۔ہماری خواہش ہے کہ اپنے حمایتی پارٹیوں سے ایک ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں بات چیت کریں۔ اگر بات چیت سے ایک ساتھ لڑنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ بہت اچھا ہوگا۔

اس دوران او بی سی ریزرویشن کے معاملے پر سینئر لیڈر چھگن بھجبل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے رابطہ کیا ہے اور بات چیت کی ہے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے گی۔اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا اور وکیل مانویندر سنگھ نہیں تھے۔ اس لیے ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ نظرثانی درخواست کے دوران انہیں بھی ساتھ لیا جائے۔اس موقع پر چھگن بھجبل نے بھی حکومت کے معاملات پر انگلیاں اٹھاتے ہوئے ترقیاتی کاموں پر روک لگانے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جوبھی اقتدار میں آتا ہے وہ اپنی پالیسی کے مطابق فیصلے کرتا ہے، جس پر کسی کوکوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن جوپروجیکٹ جاری ہیں، جہاں کام شروع ہوچکا ہے،جسے منظور ی مل چکی ہے اور جس کا ٹینڈربھی نکل چکا ہے، ایسے تمام پروجیکٹس کو روکنے کا مطلب ان میں تاخیر لانا ہے جوکسی طور مناسب نہیں ہے۔