دنیا کی تاریخ میں جب بھی طلبہ نے آواز بلند کی تبدیلی آئی ہے: جیتندر اواہاڈ
ممبئی: بی جے پی کے امیدوار پیوش گوئیل کے صاحبزادے دھرو گوئیل کے ٹھاکر کالج کے پروگرام میں تو طلبہ کو زبردستی بٹھایا گیا جس پر طلبہ نے سخت احتجاج کیا۔ دنیا کی تاریخ میں جب بھی طلبہ نے احتجاج کیا، اپنی آواز بلند کی اس وقت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ یہ باتیں این سی پی شرد چندر پوار کے جنرل سکریٹری جیتندر اوہاڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہی ہیں۔
پارٹی دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ پیوش گوئل کے صاحبزادے کاندیولی میں کالج میں تقریر کرنے گئے تھے، جہاں طلبہ نے ان کے خلاف آواز بلند کی۔ گجرات اور بہار میں احتجاج شروع کیا تھا۔ بہار و گجرات میں طلبہ سڑکوں پر آگئے تھے۔ طلبہ کے اسی طرح کے احتجاج کی وجہ سے اندرا گاندھی کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔ جب طلبہ سڑکوں پر اترتے ہیں تو اس طرح کے مشاہدے ہوتے ہیں۔ آج ٹھاکر کالج کے طلباء کو دیکھ کر ہمیں امید کی کرن نظر آنے لگی ہے۔ طلبہ کو خوب سمجھتا ہے کہ ملک میں کس طرح زور اور زبرستی کی جا رہی ہے۔ طلبہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ ملک کے لیے ایک نظیر بنے گا۔ جیتندر اوہاڈ نے کہا کہ طلبہ کو جب بھی اور جہاں بھی ضرورت ہوگی، ہم ان کے ساتھ آنے کے لیے تیار ہیں۔ ان پر پولیس مقدمہ کرے گی، کالج انتظامیہ پریشان کرے گی تو اس وقت ہم ان کے پیچھے کھڑے رہیں گے۔
جتیندر اوہاڈ نے مزید کہا کہ ہم کل الیکشن کمیشن سے ملاقات کیے۔ تمام انتخابی عمل جمہوری دائرے میں ہونے چاہئیں لیکن ہمیں تشویش ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اوپر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ ادارہ ایک خاص پارٹی کی ہی مدد کرتا رہا تو پھر کیسے چلے گا؟ الیکشن کمیشن کے موقف پر ملک کے لوگوں کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ الیکشن کمیشن جو کر رہا ہے اس سے ملک کی جمہوریت اور پارلیمانی طریقۂ کار کو کمزور متاثر ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کو ڈرانے کا ایک الگ طریقہ شروع ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن حکومت کی کٹھ پتلی بن گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ شرد پوار کی تصویر کا استعمال نہ کی جائے، انتخابی نشانی کے نیچے نوٹ لکھا جائے، مگر اس پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہم نے عدالت کو کچھ تصاویر بھی دی ہیں۔ ہم سپریم کورٹ بتائیں گے کہ اس کے حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے جو صریح طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ جتیندر اوہاڈ نے یہ بھی بتایا کہ شرد پوار نے ہم سے کہا کہ لوگوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو سمجھنے دیں۔
کولہاپور کی سیٹ سے متعلق جیتندر اوہاڈ نے کہا کہ کولہاپور کی سیٹ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ وہاں پر شاہو مہاراج کی زبردست حصہ داری ہے۔ شاہو پھلے کے نظریات آئین میں ہیں۔ ادین راجے کیا کر رہے ہیں؟ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ہم ان کے گھر جا کر انہیں پارلیمنٹ کا ٹکٹ دیا تھا۔ وہ فی الوقت کیا کر رہے ہیں ہمیں نہیں معلوم، وہ اپنا دیکھیں گے۔ ہمارے لیے شاہو پھلے و امبیڈکر کے نظریات اہم ہیں۔
