NCP Urdu News 21 July 23

بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی این سی پی کی جانب سے مذمت:مہیش تپاسے

ممبئی:ملک میں نوجوانوں کو روزگار اورملازمت فراہم کرنے میں حکومت کی ناکامی کی تصویر ایک بار پھر منظر عام پر آ رہی ہے۔ریاست میں تلاٹھی کے عہدے کے لیے اعلان کردہ 4644 جگہوں کے لیے مہاراشٹر حکومت کو 11/لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس سے اندازہ لگیا جاسکتا ہے کہ مہاراشٹر میں بیروزگاری کس قدر شدید ہے۔ یہ باتیں این سی پی کے ترجمان مہیش تپاسے نے کہی ہیں۔

تپاسے نے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات کے دوران نوجوانوں کو بڑی تعداد میں نوکریاں فراہم کرنے اوراور سرکاری ملازمتوں میں بڑی تعداد میں بھرتیاں کرنے کا وعدہ کیا تھا۔وزراعظم نے ہرسال دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا۔لیکن ملازمتوں اور روزگار کے جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں اس کے مطابق مرکزی بی جے پی حکومت وہ نوکریاں اور روزگار فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔تپاسے نے کہا کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ مودی حکومت کے نو سالوں میں ملک میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا کہ یہ بات مہاراشٹر کبھی نہیں بھول سکتا کہ مہاراشٹر کی شندے فڈنویس حکومت نے مہاراشٹر کے کئی بڑے پروجیکٹ کھودیا جس سے پیداہونے والے روزگار کے مواقع سے ریاست کے لاکھوں نوجوان محروم ہوگئے۔ تپاسے نے ریاست کی مہایوتی حکومت کے اس بیان کی بھی اچھی خبرلی کہ ریاست میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے بڑی تعداد میں صنعتیں لگائی جائیں گی اور انہیں روزگار حاصل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔تپاسے نے سوال کیا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے دور میں بڑی تعداد میں صنعتی پروجیکٹ ریاست سے باہر چلے گئے ہیں اور اب ریاست کے نوجوانوں کو کس قسم کی نوکریاں دی جائیں گی؟کیا بی جے پی چاہتی ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان سموسے اورپکوڑے تلیں؟2024 کے انتخابات سے قبل روزگار سے متعلق اب کونسا جملہ مارکیٹ میں آتا ہے؟اب یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔تپاسے نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ ملک کی بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی تصویر ابھر رہی ہے۔تپاسے نے کہا کہ این سی پی عوام کے حقوق کے لیے ہمیشہ لڑتی رہے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading