NCP Urdu News 20 Oct 21

بی جے پی، این سی بی اورکچھ مجرمین مل کر ممبئی میں دہشت پیدا کررہے ہیں: نواب ملک

ممبئی: این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے آج یہاں ایک بار این سی بی پر سنسنی خیزالزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ بی جے پی، این سی بی اور کچھ مجرمین مل کر ممبئی میں دہشت پیداکررہے ہیں۔ اس کا مقصد ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کرنا ہے جس کے ثبوت میں آئندہ ہفتے پیش کرونگا۔

نواب ملک نے کہا ہے کہ این سی بی الیکٹرانک شواہد پرچل رہی ہے۔ سمیر وانکھیڈے کا موبائل اور واٹس ایپ چیٹ چیک کیا جائے۔ اگر فون ریکارڈنگ جاری کی جاتی ہے تو تمام کیسوں کی جعلسازی سامنے آجائے گی۔ماضی میں جب بھی ریویو پارٹیاں ہوتی تھیں، مشتبہ افراد کے خون اور پیشاب کے نمونے لیے جاتے تھے اور انہیں چھوڑ دیا جاتا تھا۔اس کے بعد ٹیسٹ رپورٹ مثبت آنے پر انہیں کرفتار کیا جاتا تھا اورعدالت میں پیش کیا جاتا تھا۔

لیکن این سی بی نے سال بھر میں جن پر الزامات عائد کیے یا جنہیں گرفتار کیا ان میں سے کسی کے بھی خون یا پیشاب کے نمونے نہیں لیے۔ جنہیں حراست میں لیا جاتا ہے ان کے نمونے مثبت نہیں آئیں گے اسی لئے ان کے خون وپیشاب کے نمونے ہی نہیں لئے جاتے ہیں۔انہیں صرف واٹس ایپ چاٹ کی بنیادپر ملزم قراردیا جاتا ہے۔ این سی بی کو معلوم ہے کہ اگر اگر ملزمین کے خون وپیشاب کے نمونوں کی جانچ کی گئی تو این سی بی کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوجائے گا اور ان کی قلعی کھل جائے گی۔

آرین خان کی ضمانت کی درخواست این ڈی پی ایس کی خصوصی عدالت سے خارج ہوجانے پر نواب ملک نے کہا کہ عدالت میں ضمانت کی حمایت اورمخالفت میں جو بحث ومباحثے ہوئے اس کی بنیاد پر عدالت نے ضمانت کی درخواست خارج کی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عدالت میں این سی بی کی کوشش ہی یہی ہوتی ہے کہ ملزم کو ضمانت نہ ملے اور معاملے کو طول دیا جائے۔قلعہ کورٹ سے لے کر این ڈی ایس کورٹ تک این سی بی نے ہردن نئی نئی باتوں کوجج صاحبان سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ واٹس ایپ چیٹ کے سہارے سارے معاملے بنائے جاتے ہیں۔ کچھ جھوٹی چیزیں بھی عدالت کے سامنے رکھی جاتی ہیں تاکہ ضمانت نہ مل پائے۔لیکن جب چارج شیٹ فائل ہوتی ہے تو ان چیزوں کا ذکر نہیں ہوتا ہے۔ ملزمین کے وکیل یقینی طور پر اگلا قدم اٹھاتے ہوئے ہائی کورٹ تک جائیں گے۔لیکن اگر یہ معاملہ ہائی کورٹ چلاجائے تو ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پورا معاملہ فرضی ہے۔ اس معاملے میں نہ کوئی ضبطی کروز سے ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی ضبطی ٹرمنس سے ہوئی ہے۔ اس ضمن میں جتنی بھی تصویریں میڈیا کو دی گئیں وہ تمام کی تمام این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کی کیبن کی تھیں۔ کوئی کورٹ کمشنربیٹھ جائے تو یہ پوری جعلسازی ہے، یہ ثابت ہوجائے گا۔

نواب ملک ننے کہا کہ میں آپ کوبتادوں کہ اس شہر میں پچھلے ایک سال سے جتنے بھی معاملے بنائے گئے وہ تمام کے تمام فرضی ہیں۔ہر معاملے میں الکٹرانک ثبوت کی بات کی جاتی ہے اور فرضی معاملے بنائے جاتے ہیں۔ ہم نے بہت سارے ثبوت یکجا کئے ہیں۔ جب ان معاملوں کی جانچ ہوگی تو ثابت ہوجائے گا کہ یہ سب فرضی ہیں۔ اس شہر میں جو بھی چیزیں ہورہی ہیں وہ سستی شہرت اور لوگوں میں دہشت پیدا کرنے کے لئے ہورہی ہیں اور اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر وصولی ہورہی ہے۔ آنے والے دنوں میں بہت ساری چیزیں کھل کر سامنے آئیں گی۔ کچھ افسران’ستیہ میو جیتے‘ کہہ رہے ہیں، لیکن اصل ’ستیہ میوجیتے‘اس وقت ہوگا جب یہ معاملات اپنے منطقی انجام کو پہونچیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading