غداروں کو غدار کہنے کی طاقت مجھ میں ہے اور میں غداروں کو غدار ہی کہونگی
این سی پی کی جانب سے ’غدار دن‘ کے انعقاد میں سپریاسولے کی شرکت
ممبئی:کیا اس ریاست میں جمہوریت باقی ہے؟سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لیے اگر اجازت نہیں ملتی ہے تو ہم کوئی بھی قیمت اد کریں گے لیکن ظلم وستم کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ یہ باتیں این سی پی کی قومی کارگزار صدر سپریاسولے نے کہی ہیں۔ وہ پارٹی کے دفتر کے باہر پارٹی کی جانب سے منائے جانے والے’غدار دن‘ کے موقع پر میڈیا سے بات کررہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر نہ کبھی جھکا ہے اور نہ ہی جھکے گا، ہم ٹوٹ جائیں گے لیکن جھکیں گے نہیں۔ جو غدار ہیں انہیں غدار کہنے کی طاقت مجھ می ں ہے اور میں انہیں غدار ہی کہونگی۔ ہم آج غدار دن منارہے ہیں، اس کی پاداش میں اگر ہمیں جیل میں بھی ڈالاجائے گاتو ہم جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔ سپریاسولے نے کہا کہ شندے گروپ کے وزیر شمبھوراج دیسائی بولنے میں اتنے ڈھیٹ ہیں کہ انہوں نے کیمرے کے سامنے آکر یہ آفردیدیا کہ کیا پچاس کھوکے آپ کو چاہئے۔ اس لیے نریندرمودی وامیت شاہ کو بتانا چاہئے کہ ان کی حکومت کا ایک وزیر بدعنوانی کا آفر دیتا ہے۔ جبکہ مودی جی کہتے تھے کہ نہ کھاؤنگا اور نہ ہی کھانے دونگا، لیکن ان کی حکومت کا ایک وزیر لوگوں کو دعوت دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ٹی وی اور اخبارات میں خبریں پڑھنے اور دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ آج 20 جون یعنی ’غدار دن‘ ہے۔آج کے دن مہاراشٹرحکومت میں آج جو واقعات رونما ہوئے تھے،اس کی مناسبت سے ٹی وی پر آج کے دن کو غدار دن کہا جارہا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ سابق وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے غداری کی ہے۔یہ لوگ کیا یہ بات بھول گئے کہ ادھوٹھاکرے کی حکومت میں وہی ان کی کابینہ کے وزیر میں تھے؟
اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو مہاوکاس اگھاڑی180سے 200سیٹیں جیتے گی: مہیش تپاسے
مہاوکاس اگھاڑی میں این سی پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی
نیا انتخابی سروے لوگوں کا حقیقی رجحان کو ظاہر نہیں کرتا
ممبئی: اگر آج ریاستی انتخابات ہوتے ہیں تو مہاوکاس اگھاڑی180سے200سیٹیں جیتے گی ااور این سی پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ یہ دعویٰ این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کیا ہے۔
تپاسے نے کہا کہ نیوز ایرینا انڈیا کی جانب سے جو سروے کیا گیا اس سے مہاراشٹر کے ووٹروں کا حقیقی رجحان ظاہر نہیں ہوتا۔ ریاست کے لوگوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ بی جے پی نے ہی ادھو ٹھاکرے کو شیو سینا میں بغاوت کرواکر مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو گرایا ہے۔ اس لیے صرف بلدیاتی انتخابات ہی نہیں بلکہ ریاست وقومی سطح پر بی جے پی کو سبق سکھانے کے لیے مہاراشٹر کی عوام موقع کی منتظر ہے۔تپاسے نے کہا کہ بی جے پی کے اندرونی جائزے میں بھی مہاراشٹر میں ای ڈی حکومت کی بددیانتی پر تشویش ظاہر کی ہے۔سچائی یہ ہے کہ شندے فڈنویس حکومت کے آپسی انتشار کی وجہ سے ریاست کا کام کاج ٹھپ ہوگئی ہوکر رہ گیا ہے اور اسی وجہ سے ایک فلاحی ریاست کا تصور صرف کاغذوں تک ہی محدود ہوگیا ہے۔تپاسے نے کہا کہ حال ہی میں ہوئے کچھ ریاستی انتخابات میں لوگوں نے بی جے پی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ رحجان آج پورے ملک کا ہے اورآئندہ ہونے والے تمام انتخابات میں یہی پیٹرن نظر آئے گا۔