مراٹھواڑہ کی ترقی کا ویژن تک وزیراعلیٰ کو یاد نہیں رہا: پیٹھن کے جلسے میں پورا زور اپنی بغاوت کی تعریف پر ہی لگادیا

237

ممبئی: مراٹھواڑہ کی ترقی کا حکومت کے پاس کیا ویژن ہے یہ بتانے کے بجائے ہماری بغاوت کیوں مناسب تھی اور حکومت کی تبدیلی کا ڈرامہ کیسے کھیلا گیا وزیراعلیٰ اپنے پیٹھن کے جلسے میں اسی پر اپنا پورا زور صرف کرتے رہے۔وزیراعلیٰ پر یہ تنقیدآج یہاں این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کیا ہے۔

تپاسے نے کہا کہ شندے گروپ نے جو کچھ کیا ہے اسے آئینی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ جب تک سپریم کورٹ اس کی آئینی حیثیت طے نہیں کرتی اس وقت تک شندے حکومت غیرآئینی ہی کہلائے گی اس لیے اپوزیشن کی جانب سے اگر شندے حکومت کو آئین کے خلاف قراردیا جاتا ہے تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔تپاسے نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اورنگ آباد کے قریب پیٹھن میں ایک زوردار جلسہ ئ عام کا انعقاد کیا جس کے بارے میں کہا یہ جارہا ہے کہ اس میں بھیڑ جمع کرنے کے لیے سرکاری مشینری کے ساتھ پیسوں کا بھی خوب استعمال ہوا ہے۔ لیکن ہم اس پر کچھ کہنے کے بجائے وزیراعلیٰ کی اس بے

سمتی پر افسوس ظاہر کریں گے کہ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران مراٹھواڑہ کی ترقی کا کوئی ویژن پیش کرنے کے بجائے اپنا پورا زور اس بات صرف کیا کہ ان کی بغاوت کیوں مناسب تھی اوریہ کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر انہوں نے کس طرح حکومت تبدیل کی۔ وزیراعلیٰ کے خطاب سے ہی بات صاف طور پر محسوس ہورہی تھی کہ اجیت دادا پوار، جینت پاٹل اور سپریا تائی سولے نے ان پر جو تنقیدیں کیں تھیں وہ غلط نہیں تھیں اور ان تنقیدوں کا ان پر خاصہ اثر ہوا ہے۔

اپنی تقریر میں وزیر اعلیٰ نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان کی بغاوت کس طرح درست تھی اور یہ کہ ان کی بغاوت سے عوام خوش ہیں۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ پوری ریاست میں انہیں غدار او ر دھوکہ باز کہاجارہا ہے اور یہ عوام کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے اقتدار کے نشے میں مست ہوگئے ہیں۔ انہیں اپنے

استقبال اور گلدستے وصول کرنے سے ہی فرصت نہیں ہے کہ وہ عوام کا مزاج جاننے کی کوشش کریں۔ تپاسے نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ عوام ان کی دھوکہ دہی کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور اپنے ساتھ انہوں نے جن 45ممبرانِ اسمبلی کو ساتھ لیا ہے عوام ان کو شکست دیئے بغیر سکون سے نہیں بیٹھے گی۔