جب صرف تین کمپنیوں کواجازت ہے تو پھر موڈیرنا کمپنی کی ویکسین کیسے دی جارہی ہے: نواب ملک

نائب وزیراعلیٰ کے محکمے کی تشہیر پر انگلی اٹھانے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں

ممبئی: ویکسین بنانے کے لیے ملک میں جب صرف تین کمپنیوں کو اجازت ہے تو پھر فرانس میں لوگوں کو Modernaکمپنی کی ویکسین کیسے اور کیونکر دی جارہی ہے؟ اگر ملک کی عوام کو منظوری نہیں دی جارہی ہے تو کیا Modernaکو خصوصی زمرے میں منظوری دی گئی ہے؟ مرکزی حکومت کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔ یہ مطالبہ آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کیا ہے۔وہ پارٹی آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو کہنا ہے کہ ملک میں ویکسین کی قلت ہے۔ مرکزی حکومت نے بھارت بایوٹیک، سیرم انسٹی ٹیوٹ واسفوٹنک کو منظوری دی ہے۔ پھر ایسی صورت میں ملک کچھ مقامات نیز ممبئی کے اطراف میں Modernaکمپنی کی ویکسین لوگوں کو دی جارہی ہے۔ اس سے حکومت کے طریقہئ کار پر سوال پیدا ہوتا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے سپرد محکموں کی تشہیر کے لیے ہونے والے اخراجات پر انگلی اٹھانے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور ریاست میں جب ان کی حکومت تھی تو اس وقت انہوں نے وزراء اور ان قلمندانوں کی تشہیر پر کتنا خرچ کیا؟ اس پربھی غور کریں۔نواب ملک نے کہا کہ حکومت کو اپنے کام کاج وپالیسی پروگرام کے بارے میں عوام کو آگاہ کرانے اور واقفیت پہونچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر نائب وزیراعلیٰ کے محکمہ جات کی پالیسی وپروگرام نیز منصوبوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ۶ کروڑ روپئے خرچ کیے جارہے ہیں تو اس میں کون سا آسمان پھٹ پڑ رہا ہے؟ اس سے قبل جو لوگ اقتدار پر براجمان تھے، انہیں اپنے دور میں وزیراعلیٰ و اپنے دیگر وزراء اور ان کے محکموں کی تشہیر پر کتنے خرچ کیے؟ انہیں اس جانب توجہ دینی چاہیے۔

نواب ملک نے کہا کہ مرکزکی بی جے پی حکومت وملک میں جتنی بی جے پی کی اقتدار والی ریاستیں ہیں سبھی کی بنیاد تشہیر اور ایڈورٹائز ہے۔ اس کے لیے یہ بی جے پی کی مرکزی وریاستی حکومتیں بے تحاشہ پیسے خرچ کررہی ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ پیسے عوام کے ہیں جو صرف عوامی مفاد کے لیے ہی خرچ کیا جانا چاہیے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کے لیڈران عوامی پیسوں کو اپنی شبیہ چمکانے اور اپنی امیج کو بہتر بنانے میں خرچ کررہے ہیں۔ بی جے پی کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک کی عوام ان کی اس دوغلی پالیسی کو نہیں سمجھتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔ عوام اب ہربات کو اچھی طرح سمجھنے لگی ہے کہ کون سا اشتہار عوام کو معلومات دینے کے لیے ہے اور کون سا اشتہار اپنی جھوٹی امیج بنانے کے لیے۔

ہمیں ایک علاحدہ ایپ بنانے اور اسے کنٹرول کرنے کی اجازت دی جائے:نواب ملک

ممبئی: مرکزی حکومت کو اگر اس بات کا خدشہ ہو کہ ہم ویکسین کے سرٹیفکٹ سے وزیراعظم کی تصویر ہٹادیں گے تو ہم مرکز کواس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم سرٹیفکٹ سے تصویر نہیں ہٹائیں گے، لیکن ویکسنی نیشن کے لیے مرکز ہمیں ایک علاحدہ ایپ تیار کرنے اور اسے کنٹرول کرنے کی اجازت دے۔ یہ باتیں آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہی ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ کووین ایپ پر رجسٹریشن کے بعد ویکسین دی جاتی ہے لیکن یہ ایپ بار بار ڈاؤن ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے رجسٹریشن کیے ہوئے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس لیے ہم نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کو ایک علاحدہ ایپ تیار کرنے اور اسے چلانے کی اجازت دے۔ اگر مرکزی حکومت نے ہمیں علاحدہ سے ایپ بنانے کی اجازت دیدی تو اس کے ذریعے لوگوں کو رجسٹریشن کرنے اور انہیں ویکسین دینے میں آسانی ہوگی لیکن مرکزی حکومت نے ابھی تک ہمیں اجازت نہیں دی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading