14 کروڑ 56 لاکھ کے جعلی نوٹوں کے معاملے کو دبانے میں دیویندر فڑنویس کا ہاتھ تھا: نواب ملک

دیویندر جی! آپ کے کچھ اور بھی کالے کرتوت ہیں جو کچھ دنوں میں منظر عام پر لاؤنگا

ممبئی:اکتوبر2017میں بی کے سی میں 14کروڑ 56 لاکھ کے جو جعلی نوٹ ضبط کئے گئے تھے، اس معاملے کو دبانے میں دبانے میں دیوندرفڈنویس کا ہاتھ تھا۔ این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیرنواب ملک نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں یہ سنسنی خیزالزام عائد کرتے ہوئے بتادیا کہ ہائیڈروجن بم کیا ہوتا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ جعلی نوٹوں کا راست کنکشن آئی ایس آئی سے ہے جو پاکستان سے بنگلہ دیش کے راستے ہندوستان میں داخل ہوتا ہے اور جو پورے ملک میں پھیلایا گیا۔ ۸/اکتوبر 2017کو بی کے سی میں ہوئی چھاپے ماری میں 14/کروڑ56لاکھ روئے ضبط کئے گئے تھے۔جعلی نوٹوں کے اس معاملے میں عمران

عالم شیخ اور ریاض شیخ کوممبئی پونے سے گرفتار کیا گیا۔ نئی ممبئی میں کارروائی ہوئی تھی لیکن 14/کروڑ 56لاکھ روپئے کے جعلی نوٹوں کے اس معاملے میں 8لاکھ80ہزار روپئے دکھاکر اس معاملے کو دبادیا گیا۔جعلی نوٹوں کے کاروبار کے اس ریکیٹ کی تفتیش کو این آئی اے کے سپرد نہیں کیا گیا۔ یہ نوٹ کہاں سے آئے؟ اس کی آج تک کوئی تفتیش نہیں ہوئی

کیونکہ جو لوگ جعلی نوٹوں کا ریکیٹ چلارہے تھے انہیں اس وقت کی حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی۔لیکن اس وقت میڈیا میں شورخبر پھیلائی گئی کہ گرفتار شدہ شخص کانگریس کا لیڈر ہے۔ جبکہ یہ ایک پلاننگ کے تحت تھا کہ پکڑے جانے پر کانگریس کو موردِ الزا ٹھہرایا جائے۔ عمران عالم شیخ کے چھوٹے بھائی حاجی عرفات شیخ کو مائناریٹی کمیشن کا چیئر مین بنایا گیا۔ حاجی عرفات شیخ کو پارٹی میں لے کر دیوندرجی نے اسے مائناریٹی کمیشن کے عہدے پر بٹھایا۔

نواب ملک نے دیوندرفڈیونویس کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ دیوندرجی آپ منایادو جیسے بدنام زمانہ غنڈے کو صدربناتے ہیں۔ حیدراعظم کو مولانا آزاد ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا صدربناتے ہیں جو بنگلہ

دیشیوں کو یہاں آباد کراتا ہے۔ جو جعلی نوٹوں کا ریکیٹ چلاتا ہے اور جو چھوٹاموٹا کارڈ چھپواکر کانگریس کے لیڈر کے طور پر دوسری پارٹیوں میں جاتا ہے اور کام آپ کے لئے کرتا ہے، ایسے لوگوں کو بچاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے رشتہ داروں کو کمیشن کا چیئرمین بناتے ہیں۔ نواب ملک نے کہا کہ 2008میں جو افسر ممبئی میں زونل آفیسر بن کر آتا ہے وہ 14/سال تک ممبئی شہر چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے کونسا راز پوشیدہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ دیوندرفڈنویس دوسر پر انڈرورلڈ سے تعلق کا الزام لگاتے ہیں لیکن جب فڈنویس وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے انڈرولڈ سے جڑے ہوئے لوگوں کو کمیشن کے چیئرمین بنائے۔ منّایادو جو نگپورکا بدنام زمانہ غنڈہ ہے،جس پر قتل اوردیگر مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ وہ سیاسی خوف پیدا کرنے کی غرض سے آپ کے ساتھ ہے۔ آپ نے اس منایادو کو بورڈ کا چیئرمین بنایا تھا یا نہیں؟ کیا منایادو آپ کی گنگا میں نہاکر پوتر ہوگیا تھا؟

نواب ملک نے سوال کیا کہ حیدراعظم نامی ایک شخص کو مولانا آزاد کارپوریشن کا آپ نے چیئرمین نہیں بنایا تھا؟حیدراعظم بنگلہ دیشی لوگوں کو ممبئی میں آباد کراتا ہے یا نہیں؟ اس کی دوسری بیوی بنگلہ دیشی ہے جس کی جانچ ملاڈ پولیس نے شروع کی تھی۔ 24پرگنہ پولیس اسٹیشن میں اس تعلق سے کاغذات روانہ کئے تھے۔ بنگال پولیس برتھ سرٹیفکٹ ودیگر دستاویزات کی جانچ کررہی تھی۔ اس وقت وزیراعلیٰ کے دفتر سے فون کیا گیا اور یہ پورا معاملہ دبادیا گیا؟ کیا فڈنویس صاحب اس سے انکار کریں گے؟ فڈنویس صاحب! آپ اس بات کا جواب دیجئے کہ آپ کے نام سے پورے مہاراشٹر میں وصولی کی جارہی تھی یا نہیں؟ ممبئی کا کوئی معاملہ ہو یا بلڈر وں کے زمین کے تنازعات ہوں، پولیس اسٹیشن میں یہ

تنازعات درج کراکر وصولی کی جارہی تھی یا نہیں؟ زمین کے مالکان کو پکڑ کر لایا جاتا تھا اور ان کی تمام زمینوں کودوسروں کے نام پر کیا جاتا تھا یا نہیں؟ آپ جب وزیراعلیٰ تھے تو کیا بیرونِ ملک سے بدنام زمانہ غنڈوں کے فون نہیں آتے تھے؟نواب ملک نے کہا کہ ریاض بھاٹی کون ہے؟ اس کا جواب دیوندرفڈنویس کو دینا چاہئے۔ 29/اکتوبر کو سہارا ائیرپورٹ ریاض بھاٹی جعلی پاسپورٹ کے معاملے میں گرفتار ہوا۔ اس کا داؤ د ابراہم گینگ کے ساتھ تعلق ہے۔ اس وقت پورے شہر کو معلوم تھا کہ ریاض بھاٹی کون ہے؟ وہ دوپاسپورٹ معاملے میں گرفتار ہوا اور محض دو دن میں رہا بھی ہوگیا۔اس کے پیچھے کیا کھیل ہوا؟ کیا دیوندرفڈنویس یہ بتانے کی زحمت کریں گے؟

نواب ملک نے کہا کہ ریاض بھاٹی کو بی جے پی کے پروگرام میں مسلسل کیوں دیکھا گیا؟ دیویندر جی! وہ آپ کے ساتھ کھانے کی میز پر کیا کر رہاتھا؟ میں ملک کے وزیراعظم پر الزام نہیں لگاتا، لیکن جب وزیر اعظم مودی ممبئی آئے تو ریاض بھاٹی نے ان کے ساتھ فوٹو کھنچوائے تھے۔ وزیراعظم کے پروگرام میں شامل ہونے والوں کی مکمل جانچ کی جاتی ہے کہ کس کو پاس دیا جائے اور کس کو نہ دیا جائے۔ لیکن ریاض بھاٹی بغیر کسی تفتیش کے وزیر اعظم تک کیسے پہنچ گیا؟ اس کی وجہ کیا تھی؟ جب دیویندر فڈنویس وزیر اعلیٰ تھے تو مہاراشٹر میں تمام مجرموں کو سرکاری عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ آپ کی پشت پناہی میں جعلی نوٹوں کا ریکیٹ چلتا رہا، ریاض بھاٹی کے ذریعے وصولی کیا جاتا تھا، بیرونِ ملک سے بدنام زمانہ غنڈے فون کرکے وصولی کرتے تھے۔ یہ سب کھیل فڈنویس صاحب آپ کی پشت پناہی اور آپ کی حمایت سے مہاراشٹر میں شروع تھا، کیا آپ اس سے انکاکریں گے؟ایسے ایک نہیں بلکہ درجنوں سوالات نواب ملک نے فڈنویس سے کئے۔انہوں نے کہا کہ نواب ملک نے کہاکہ دیوندرفڈنویس نے سیاست کو جرم سے آلودہ کیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading