کرن مجومدار شا کی طرح کارپوریٹ کے دیگرلیڈروں کو بھی آواز اٹھانی چاہیے: مہیش تپاسے

ملک میں سماجی ہم آہنگی واتحاد کی برقراری نہایت ضروری ہے

ممبئی:بایوکون کمپنی کی کرن مجومدار شا نے اقتصادی شمولیت کے بارے میں اپنے ذہن کی بات کرتے ہوئے کچھ علیحدگی پسند گروپوں کے مطالبے کے مطابق مسلمانوں کی معاشی بے دخلی کے فیصلے پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کو آئینہ دکھا کر کارپوریٹ دنیا میں ایک بڑی مثال قائم کی ہے۔انہوں نے درست کہا ہے کہ جامعیت اور یکساں پالیسی ہی ملک کو آگے بڑھانے کا واحد راستہ ہے۔این سی پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کہامجھے امید ہے کہ مزید ہندوستانی کارپوریٹ لیڈر آگے آئیں گے اور ملک کی مختلف حکومتوں اور لیڈروں سے قومی یکجہتی، بھائی چارہ، سرو دھرم سمبھاو کے بارے میں بات کریں گے اور علیحدگی پسند قوتوں کو روکنے کی کوشش کریں گے۔

تپاسے نے کہاکہ جمہوریت کو مضبوط رکھنے اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ سماج کے کرتا دھرتا لوگوں اور کاروباری طبقے کو اپنی بات کہنی ضروری ہے۔جامعیت، بھائی چارہ، قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ میں کرناٹک کی حکومت اور ان تمام حکومتوں اور سیاست دانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں، دلت، پسماندہ قبائلی، اقلیتی اور کمزور طبقات کے لوگوں کے دلوں میں اعتماد کا ماحول پیدا کریں۔ ذات پات یا مذہب کے نام پر کسی بھی شخص کو اس کے کاروبار سے بے دخل کرنا اسے اس کی زندگی سے نکالنے کے مترادف ہے۔

تپاسے نے کہا کہ ہندوستان کو خوشحال بنانے کے لیے ہمارے مجاہدین آزادی اور آئین ہند کے معمار ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ملک میں سرو دھرم سمبھاو، قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا منتر دیا ہے۔ملک میں اتحاد اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی سمت میں مہاراشٹر کی ایک تابندہ روایت رہی ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج نے اس سلسلے میں کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے ملک کے سامنے ایک معیار قائم کردیا ہے۔ مہاراشٹر کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سماج کے تمام لوگوں کی ترقی کے لیے کام کرنے میں مصروف ہے۔ہندوستان کے شہری، دنیا کے لوگ اور آنے والی نسلیں ہمیشہ ان رہنماؤں اور ان حکومتوں کے لیے وقف رہیں گی جنہوں نے انسانی سماج کو متحد کرنے کا کام کیا ہے۔