ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مہاپرینروان دن پر سپریا سولے کی چیتیہ بھومی میں خراجِ عقیدت

انڈیگو کی سروس اچانک کیوں مفلوج ہو گئی؟ مرکز کو پارلیمنٹ میں جواب دینا ہو گا: سپریا سولے

ممبئی: این سی پی- ایس پی کی قومی کارگزار صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ۶۹ویں مہاپرینروان دن کے موقع پر دادر کی چیتیہ بھومی پہنچ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے ریاستی صدر ششی کانت شِندے سمیت متعدد عہدیداران موجود تھے۔

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سپریا سولے نے سوال اٹھایا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے عظیم و شان اسمارک کی تعمیر کے لیے اِندو مل کی جو زمین دی گئی تھی، اس کے بعد بھی اس اسمارک کی تکمیل میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ ریاستی حکومت بڑے بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹس مکمل کرتی جارہی ہے، لیکن اِندو مل کا یہ اسمارک، جو کروڑوں لوگوں کا ’آستھا استھان‘ ہے، آخر کیوں مکمل نہیں ہو رہا؟ اس کا جواب ریاستی حکومت کو دینا چاہیے۔ سپریا سولے نے کہا کہ مرکز اور ریاست کے ’ڈبل انجن‘ کی حکومت کے دوران خود حکومتِ ہند کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست میں خواتین غیر محفوظ ہیں، روز بروز جرائم بڑھ رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح ایک حقیقت ہے اور یہ مرکز کی رپورٹ ہے۔

سپریا سولے نے مزید کہا کہ مرکز حکومت کو انڈیگو کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ گزشتہ دو دنوں میں ہزاروں مسافروں کو جس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ شدید تشویشناک ہے۔ ہم نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا ہے۔ مرکز کو انڈیگو کے تعلق سے فوری ایکشن لینا چاہیے۔ ابھی جو مسافر پریشان ہیں، ان کے مسائل پر مرکز کو وضاحت بھی دینی چاہیے۔ اتنے بڑے پیمانے پر یہ بدانتظامی آخر کیسے ہوئی؟ پہلے سے کوئی اطلاع دیے بغیر یہ کیسے شروع ہوئی؟ اس کی وجہ سے لوگوں کے کروڑوں روپے اور قیمتی وقت ضائع ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ انڈیگو جیسی مزید پانچ کمپنیاں تیار کرے۔ اس کے ساتھ ہی مرکز کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ انڈیگو کی خدمت میں آخر کیا رکاوٹ پیدا ہوئی؟ اچانک سروس کیوں مفلوج ہو گئی؟ مسئلے کا حل کیا ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب مرکز حکومت کو پارلیمنٹ میں دینے ہوں گے۔

NCP-SP Urdu News 6 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading