آئینی قدروں کو پامال کرنے والی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کا وقت آ گیا ہے: ہَرش وردھن سپکال

ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے غلامی کی زنجیریں توڑ کر سماجی انصاف، مساوات اور اخوت کا نعرہ بلند کیا

ممبئی: بھارت رتن، آئینِ ہند کے معمار ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے قوم کو جو آئین عطا کیا، وہ آج بھی مشعلِ راہ بن کر رہنمائی کر رہا ہے، مگر انہی آئینی قدروں کے خلاف کچھ طاقتیں کھڑی ہیں۔ ان طاقتوں کے خلاف جدوجہد ناگزیر ہے اور آئین کی روح کے مطابق ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہمارا عہد مزید مضبوط ہو، اسی جذبے کے ساتھ میں چیتیہ بھومی میں حاضر ہوا ہوں۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہَرش وردھن سپکال نے کہی ہے۔

ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مہاپرینروان دن کے موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر ہَرش وردھن سپکال نے چیتیہ بھومی پہنچ کر پھول نچھاور کیے۔ اس کے بعد انہوں نے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی اور ممبئی یوتھ کانگریس کی جانب سے شِواجی پارک میں قائم میڈیکل چیک اپ اور ادویات کی تقسیم کے مرکز کا دورہ کیا، جہاں ڈاکٹر منوج رانکا، ڈاکٹر ابھیجیت، ڈاکٹر پردیپ جاولے، ڈاکٹر امیت دوے اور ڈاکٹر منوج اُپادھیائے سے تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر ریاستی کانگریس کے نائب صدر راجن بھوسلے، ریاستی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ سندیش کونڈوِلنکر، شری رنگ برگے، ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین، دنیش واگھمارے، پرشانت دھومال اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ دنیا بھر میں غلامی اور استحصال انسانیت پر بدنما داغ رہے ہیں۔ ان زنجیروں کو کاٹ کر سماجی انصاف، مساوات اور اخوت کا راستہ دکھانے والوں میں سب سے نمایاں نام وِشو رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا ہے، جنہوں نے محروم، مظلوم اور پسماندہ طبقات کی آواز بن کر ان کے حقوق کے لیے عظیم جدوجہد کی اور سماج میں برابری کے بیج بوئے۔ اسی جذبے کو انہوں نے بھارتی آئین میں مجسم کیا۔ میٹرو اسٹیشن کو بابا صاحب کا نام دینے کے سوال پر سپکال نے کہا کہ جن صنعت کاروں کے پیسے بی جے پی حکومت کو الیکٹورل بانڈ کے ذریعے ملتے ہیں، انہی کے نام اسٹیشنوں کو دیے جاتے ہیں۔سِدھی وِنائک، مہالکشمی اور چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس میٹرو اسٹیشن اس کی مثالیں ہیں۔ اس لیے یہ مطالبہ جائز ہونے کے باوجود بی جے پی حکومت مان لے گی، ایسا نہیں لگتا۔ جن مقامات کا بابا صاحب کی وراثت سے براہِ راست تعلق ہے، انہی جگہوں کو ان کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے، مگر بی جے پی اپنے مفادات کی سیاست میں مصروف ہے۔

نَوی ممبئی ایئرپورٹ کو ڈی بی پاٹل کے نام سے موسوم کرنے کا مطالبہ بھی بالکل درست ہے، مگر اس کا نام ’این ایم ایئرپورٹ‘ یعنی ’نریندر مودی ایئرپورٹ‘ کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ سپکال نے کہا کہ حکومت صرف اُن منصوبوں کو ترجیح دیتی ہے جن سے بی جے پی کو بڑا فائدہ ملتا ہے۔ سمردّھی مہامارگ اور شکتی پیٹھ مہامارگ اسی طرح کی اسکیمیں ہیں۔ سمردّھی کے ذریعے اراکینِ اسمبلی کی خرید و فروخت کر کے ’۵۰ کھوکے، ایک دم اوکے‘ کا کھیل کھیلا گیا۔ اب وسط ہندوستان کی کانوں سے ایک صنعتی گھرانے کو بڑے فائدے پہنچانے کے لیے شکتی پیٹھ مہامارگ تیار کیا جا رہا ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بحر عرب میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے اور اِندو مل میں ڈاکٹر امبیڈکر کے اسمارک کو جان بوجھ کر التوا میں رکھا گیا ہے۔ بی جے پی ہمیشہ ڈاکٹر باباصاحب کے خلاف کھڑی رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے آج تک کون سا وعدہ پورا کیا ہے کہ اس بار یقین کر لیا جائے کہ وہ اِندو مل کا اسمارک مکمل کر دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرکزی بی جے پی حکومت نے نجی کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ حکومت کا کوئی کنٹرول ان کمپنیوں پر باقی نہیں رہا اور مسافروں کو کھلم کھلا لوٹا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شہری ہوابازی کی وزارت اور وزیر کا کوئی وجود ہی نہیں۔ انڈیگو کے مسافروں کو ہونے والی اذیت بی جے پی حکومت کی ناکامی اور نااہلی کی ایک اور مثال ہے۔

MPCC Urdu News 5 December 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading