ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے کہا ہے کہ پارٹی کے کارکنان اب جمہوری میدان میں انتخابات کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں مہایوتی کے طور پر کس انداز میں مقابلہ کرنا ہے، اس پر آئندہ تین دنوں میں تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ سنیل تٹکرے نے یہ بات آج پالگھر، تھانے، رائے گڑھ، رتناگیری اور ممبئی کے اضلاع کی جائزہ میٹنگ کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس میٹنگ میں نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار، پارٹی کے قومی کارگزار صدر پرفل پٹیل، سابق وزراء نواب ملک، دلیپ ولسے پاٹل اور متعلقہ اضلاع کے ارکان اسمبلی و سابق ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔
تٹکرے نے بتایا کہ ہر ضلع میں پارٹی کارکنوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا ہے۔ تمام اضلاع سے بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدواروں کی درخواستیں طلب کی گئی تھیں، جو موصول ہوچکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج میری اور بی جے پی لیڈر چندر شیکھر باونکُلے کی ملاقات ہوئی ہے اور آئندہ منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد مہایوتی کی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی ہے، جس میں بلدیاتی اور نگر پنچایت انتخابات کے لیے اتحاد کے طور طریقے طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی کی ضلعی میٹنگوں میں مقامی سیاسی مساوات اور زمینی حالات کو تفصیل سے سمجھا جا رہا ہے۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد پارٹی کے کارکن انتخابی موڈ میں آچکے ہیں۔
رائے گڑھ ضلع سے متعلق سوال پر سنیل تٹکرے نے کہا کہ شیو سینا کے تین اراکین اسمبلی اور ضلع صدر نے عوامی طور پر کہا ہے کہ وہ نیشنلسٹ کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں چاہتے۔ لیکن ہماری پارٹی نے کبھی بھی اس پر کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی اتحاد سے انکار کیا۔ آج اجیت پوار کے سامنے رائے گڑھ ضلع صدر نے تفصیلی صورتِ حال پیش کی ہے۔ این سی پی ویٹ اینڈ واچ کی پوزیشن میں ہے اور صحیح وقت پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ تٹکرے نے واضح کیا کہ بی جے پی اور شیو سینا کے ساتھ مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے، مگر چونکہ رائے گڑھ میں شیو سینا نے خود واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اتحاد نہیں چاہتی، لہٰذا ان سے بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ادھو ٹھاکرے کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے آج کل جہاں جاتے ہیں، وہاں نئے نئے الفاظ جوڑ کر مذاق کرنے لگے ہیں۔ اپوزیشن کی حیثیت میں رہتے ہوئے اُنہیں تنقید کرنی ہی پڑتی ہے، ورنہ ان کی سیاست کیسے چلے گی؟ عوام میں اپنی دکان چلانی ہے تو اس طرح کے جملے بولنے ہی پڑتے ہیں۔ ٹی آر پی کے لیے ایسا کرنا لازمی ہے، لہٰذا اُن کی تنقید کو ہم سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادھو ٹھاکرے طویل عرصے سے سیاست میں ہیں اور اب ان کے لیے انتخابی سیاست میں رہنے کا واحد طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ وہ این ڈی اے اور مہایوتی پر حملے کریں۔ عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہی ان کا ایجنڈا ہے۔ سنیل تٹکرے نے کہا کہ مہایوتی کے اندر تمام حلیف پارٹیوں کے درمیان مفاہمت کا عمل جاری ہے اور این سی پی اس اتحاد میں مضبوطی کے ساتھ شامل ہو کر آئندہ انتخابات میں بھرپور کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے۔
